محترمہ بسمل صابری

شانِ ساہیوال سلسلے میں آج کی شخصیت ہیں محترمہ بسمل صابری: اردو ادب کی "غزل رانی"
اردو ادب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف شاعرہ بسمل صابری کا اصل نام "بسم اللہ بیگم صابری" ہے جبکہ انہوں نے شاعری میں "بسملؔ صابری" کا تخلص اختیار کیا۔ وہ 17 جولائی 1937ء کو منٹگمری (موجودہ ساہیوال، پنجاب) میں پیدا ہوئیں۔
تعلیم اور تدریس:
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ساہیوال سے مکمل کی اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لاہور کا رخ کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے تدریس کے شعبے کو اپنایا اور گورنمنٹ گرلز کالج ساہیوال میں بطور لیکچرر مقرر ہوئیں۔ وہ ساہیوال کے طالبات کے اسی کالج میں ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن بھی تعینات رہیں اور بعد میں پروفیسر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئیں۔
ادبی سفر کا آغاز اور شہرت:
بسمل صابری کے ادبی سفر کا آغاز ایک دلچسپ واقعے سے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ 1960ء میں اخبار 'امروز' میں ایک اشتہار پڑھ کر وہ اپنی "تک بندی" (ابتدائی شاعری) لے کر ساہیوال سے لاہور کے وائی ایم سی اے ہال پہنچ گئیں، جہاں خواتین کا کل پاکستان انعامی مشاعرہ ہو رہا تھا۔ اس مشاعرے کے منصفین (ججز) میں فیض احمد فیض، صوفی تبسم، احسان دانش اور قتیل شفائی جیسے اردو ادب کے عظیم اکابرین شامل تھے۔
اس مقابلے میں بسمل صابری نے نہ صرف بہترین کلام کا پہلا انعام جیتا بلکہ بہترین ترنم کا اول انعام بھی اپنے نام کیا۔ اس شاندار آغاز کے بعد وہ ملک کے ہر بڑے مشاعرے کا لازمی حصہ بن گئیں اور انہوں نے کئی بین الاقوامی مشاعروں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی۔ معروف شاعر جان کاشمیری نے انہیں ''غزل رانی'' کا خطاب دیا۔
تصانیف:
بسمل صابری کے اب تک 5 شعری مجموعے اور ایک نثری کتاب شائع ہو چکی ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں:
پانی کا گھر (1997ء)
روشنیوں کے رنگ (2007ء)
یادوں کی بارشیں (2013ء)
رس کی پھوہار (2015ء)
بیاضِ نظر (نعتیہ مجموعہ)
معروف شعر:
ان کا یہ شعر بے حد مقبول اور ان کی پہچان ہے:
وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے
عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے



