شانِ ساہیوال

جمیلہ ہاشمی

Jamila Hashmi

جمیلہ ہاشمی اردو ادب کی ممتاز شخصیت تھیں۔ بنیادی طور پر ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں، تاہم انکی تحریروں میں تاریخ، تہذیب، عورت کے مسائل، ہجرت کے دکھ اور انسانی نفسیات کا نہایت خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔
جمیلہ ہاشمی 1929ء کو ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد خاندان کے ساتھ پاکستان آکر آگئیں ساہیوال میں مقیم ہوئیں۔

نوجوانی میں لکھنے کا آغاز کیا۔ پہلا ناول آتشِ رفتہ، جس نے انھیں ادبی حلقوں میں نمایاں مقام دلایا، جبکہ تلاشِ بہاراں نے انہیں اردو ادب کی صفِ اول کی ادیبہ بنا دیا۔ اس ناول پر انہیں آدم جی ادبی ایوارڈ بھی ملا۔

جمیلہ ہاشمی کی تحریروں کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ وہ عورت کے باطن اور نفسیاتی کیفیات کو نہایت سادگی سے بیان کرتی ہیں۔ ان کے ناولوں میں پنجاب کی ثقافت، دیہی زندگی اور تقسیمِ ہند کے اثرات بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کے کردار حقیقت سے قریب محسوس ہوتے ہیں اور قارئین کو اپنی دنیا میں کھینچ لیتے ہیں۔

ان کی مشہور تصانیف میں آتشِ رفتہ، تلاشِ بہاراں، روہی، دشتِ سوس، چہرہ بہ چہرہ روبرو، جوگ کی رات، شری،اپنا اپنا جہنم، آپ بیتی جگ بیتی، رنگِ بھوم، نسبتِ رُت میں رو شامل ہیں۔

1988 میں جمیلہ ہاشمی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں، مگر اردو ادب میں ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ ان کی تحریریں نئی نسل کے لیے ادب، تاریخ، تہذیب اور انسانی جذبات کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین آج بھی انہیں احترام اور محبت سے یاد کرتے ہیں۔ یقینا" وہ شانِ ساہیوال تھیں ۔