امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی امن معاہدے پر عالمی طاقتوں نے اس کامیابی کا سہرا باقاعدہ طور پر پاکستان کے سر سجا دیا

امریکہ اور ایران کے مابین طے پانے والے تاریخی امن معاہدے پر عالمی طاقتوں نے اس کامیابی کا سہرا باقاعدہ طور پر پاکستان کے سر سجا دیا، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، برطانیہ، فرانس، ترکیہ، جاپان اور آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت نے اس معاہدے کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے ثالثی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان 14 شقوں پر مشتمل امن مسودے کی منظوری کے بعد دنیا بھر سے تہنیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان، قطر اور دیگر برادر ممالک کی پسِ پردہ کوششوں نے دنیا کو ایک ہولناک تباہی سے بچا لیا، دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے سربراہان نے پاکستان کے کردار کو کھل کر سراہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری بیان میں برطانوی وزیرِ اعظم نے اس معاہدے کو خطے میں استحکام کی بحالی کا اہم ترین قدم قرار دیا اور اس ناممکن مشن کو ممکن بنانے پر پاکستان، قطر اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کی دانشمندی کو دل کھول کر سراہا، اسی طرح قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنے بھائیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے۔
بتایا جارہا ہے کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی پر مشتمل ان چاروں بڑی یورپی طاقتوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، تاہم واضح اور قابلِ تصدیق اقدامات پر ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں گی، انہوں نے لبنان کی خود مختاری کی بھی مکمل حمایت کی، جب کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واشنگٹن اور تہران کو مبارکباد دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اب آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر کسی شرط کے دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ’اس سے خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا، تمام فریقین جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے دستخطوں سے قبل ایسے کسی بھی بیان یا اشتعال انگیزی سے گریز کریں جس سے امن عمل کو نقصان پہنچے، اور ممکنہ تخریب کاری کے خلاف الرٹ رہیں‘، جاپان کی وزیرِ اعظم نے اسے صدی کی سب سے بڑی پیشرفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس یادداشت پر اب مستقل اور مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز اور نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ اگرچہ صورتحال اب بھی نازک ہے، لیکن آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی بحالی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر سے دباؤ کم کرنے کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوگی‘، اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے دونوں روایتی حریفوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام عالمی تنازعات کے پرامن اور سفارتی حل کی جانب ایک بہت بڑا تاریخی معرکہ ہے







