شانِ ساہیوال

بابا طالب جتوئی

Baba Talib Jatoi

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں آج کی شخصیت ہیں پنجابی شاعر بابا طالب جتوئی:

بابا طالب جتوئی پنجابی ادب کے ان عوامی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کو محض لفظوں کی خوب صورتی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنی مٹی، زبان، ثقافت، طبقاتی شعور اور دیہی زندگی کی سچی نمائندگی بنا دیا۔ ان کا تعلق ساہیوال کے نواحی علاقے چک نمبر 110/9L، آٹھواں میل سے تھا۔

ان کا اصل نام نور احمد، جبکہ قلمی نام طالب جتوئی ہے وہ 2 مارچ 1942ء کو ایک بلوچ جتوئی گھرانے میں پیدا ہوئے۔۔میٹرک کی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی اور بعد میں پانچ سالہ پٹواری کورس کیا۔ عملی زندگی میں وہ پٹواری، اشٹام فروش اور وکالت کے معاون کے طور پر بھی کام کرتے رہے، مگر آخرکار انہوں نے زمین اور زمینداری کو اپنا ذریعہ معاش بنایا۔
بابا طالب جتوئی کی اصل پہچان ان کی پنجابی شاعری ہے۔ وہ ان شاعروں میں شامل تھے جنہوں نے شعوری طور پر پنجابی زبان کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ ان کے نزدیک پنجابی صرف رابطے کی زبان نہیں بلکہ شناخت، تہذیب، تاریخ اور عوامی شعور کی زبان تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ان کی فکر پر پنجابی کا قرض ہے ۔

طالب جتوئی کی شاعری کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ گنجی بار کے لہجے اور دیہی پنجابی تہذیب کے نمائندہ شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ادبی شخصیات نے انہیں گنجی بار کے لہجے کا نمائندہ قرار دیا، جبکہ ان کی نظموں میں استعمال ہونے والے لوک الفاظ، محاورے اور دیہی علامتیں اپنی تہذیبی جڑوں کے ساتھ سامنے آتی ہیں۔ ڈاکٹر مشتاق عادل کے مطابق وہ عام آدمی کی زبان استعمال کرنے کے حوالے سے وارث شاہ کی روایت سے قریب دکھائی دیتے ہیں۔

طالب جتوئی کی معروف پنجابی شعری کتابوں میں جگراتے دا تھل، بولدا کوئی نہیں، چانن دی ہڈ بیتی اور میلہ اکھراں دا شامل ہیں۔ ان کی پہلی کتاب 2001ء میں شائع ہوئی جس کے بعد وہ پنجابی ادبی حلقوں میں نمایاں طور پر پہچانے جانے لگے۔ ان کا چوتھا مجموعہ میلہ اکھراں دا ان کی وفات کے بعد شائع ہونے والی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

بابا طالب جتوئی کو مشاعروں سے غیر معمولی لگاؤ تھا۔ انہوں نے خود ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ انہوں نے پتوکی، چیچہ وطنی، میاں چنوں، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، دیپالپور، ملتان اور ساہیوال کے مشاعرے کبھی نہیں چھوڑے۔ یہ واقعہ ان کے ادبی شوق، محنت اور زبان سے محبت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ رات گئے مشاعروں سے واپسی پر طویل راستے پیدل طے کرتے تھے۔

ادبی حلقوں میں طالب جتوئی کو خاص احترام حاصل تھا۔ ساہیوال آرٹس کونسل میں ان کے لیے تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا جس میں ادیبوں، شاعروں، زبان کے کارکنوں، سیاسی کارکنوں، اساتذہ اور ان کے خاندان کے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے انہیں اپنی ثقافت، طبقے اور زمین سے جڑا ہوا شاعر قرار دیا۔ پروفیسر ڈاکٹر سجاد نسیم کے مطابق طالب جتوئی نے اپنی شاعری میں نوآبادیاتی علامتوں کے بجائے اپنی زمین، اپنے طبقے اور اپنی ثقافت کی علامتوں کو استعمال کیا۔

تعلیمی سطح پر بھی ان کی شاعری کو پذیرائی ملی۔ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ادبی میگزین لہریں میں ان کی شاعری پر تحقیقی مضمون شائع ہوا، جبکہ Dawn کی رپورٹ کے مطابق ان کی نظموں کو بیچلر اور ماسٹرز سطح کے نصاب کا حصہ بھی بنایا گیا۔ اسی طرح ان کی پنجابی ادبی خدمات پر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں 2020ء میں ایم فل سطح کا تحقیقی مقالہ بھی مکمل ہوا، جس کا عنوان بابا طالب جتوئی کی پنجابی ادبی خدمات تھا۔

بابا طالب جتوئی کی شاعری کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ عام آدمی کے شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں مصنوعی پن، درباری انداز اور دکھاوے کی بجائے سادہ مگر گہری زبان اختیار کی۔ ان کے ہاں دیہات کی خوشبو، غریب آدمی کی بے بسی، طبقاتی فرق کی چبھن، ثقافتی شناخت کا فخر اور زبان سے وفاداری ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف پنجابی شاعر نہیں بلکہ پنجاب کی عوامی تہذیب کا ترجمان بھی کہا جا سکتا ہے۔

بابا طالب جتوئی 11 یا 12 دسمبر 2019ء کو 77 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ ان کی وفات ساہیوال اور پنجابی ادب کے لیے ایک بڑا نقصان تھی۔ انہیں ان کے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کیا گیا۔

مجموعی طور پر بابا طالب جتوئی ساہیوال کی ادبی شناخت، پنجابی زبان کی محبت اور گانجی بار کی ثقافتی روایت کا مضبوط حوالہ ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک شاعر اگر اپنی مٹی، اپنی زبان اور اپنے لوگوں سے وفادار رہے تو اس کی آواز مقامی رہتے ہوئے بھی آفاقی ہو جاتی ہے۔ طالب جتوئی کا نام پنجابی ادب میں اس شاعر کے طور پر زندہ رہے گا جس نے اپنی شاعری کے ذریعے پنجاب کے عام انسان، اس کی بولی، اس کی غربت، اس کی تہذیب اور اس کی عزتِ نفس کو زبان دی۔