شانِ ساہیوال

پروفیسر مظفر حسین وڑائچ

Gemini_Generated_Image_kkuhvwkkuhvwkkuh.jpg

جناب پروفیسر مظفر حسین وڑائچ:

آپ کا بنیادی تعلق اوکاڑہ سے مگر زندگی ساری ساہیوال میں گزری۔۔ساہیوال کی علمی و ادبی تاریخ میں جن شخصیات نے خاموشی، وقار اور مسلسل علمی محنت کے ذریعے اپنا نام روشن کیا، ان میں پروفیسر مظفر حسین وڑائچ کا نام نمایاں ہے۔ وہ اردو ادب، تحقیق اور اقبالیات کے ایسے سنجیدہ طالب علم اور استاد ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علم، کتاب اور فکرِ اقبال کے مطالعے میں گزارا۔

پروفیسر مظفر حسین وڑائچ بنیادی طور پر اردو کے استاد رہے۔ تدریس و ادب کے شعبے سے وابستگی نے ان کی شخصیت کی پہچان بنائی۔

ان کی اصل پہچان اقبالیات کے حوالے سے ہے۔ علامہ محمد اقبال کے افکار، شاعری، تاریخ اور تہذیبی پس منظر پر ان کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے اقبال کو صرف شاعر کی حیثیت سے نہیں دیکھا بلکہ ایک مفکر، تہذیبی رہنما اور اسلامی تاریخ کے ترجمان کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی۔پروفیسر صاحب کی اہم تصانیف میں “اقبال اور ہسپانیہ” اور “اقبال اور اندلس کی اسلامی میراث” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

ان کتابوں میں انہوں نے اقبال کے اندلس سے تعلق، اسلامی تہذیب کی عظمت اور تاریخی شعور روع بنایا۔ اسی طرح “ذکرِ رسول در کلامِ اقبال”، “ذکرِ رسول کلامِ اقبال میں” اور “کلامِ اقبال میں خودی بے خودی” جیسی کتب ان کے فکری ذوق اور اقبال شناسی کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔

ان کی علمی شخصیت کا ایک اہم پہلو کتاب دوستی بھی ہے۔ بلکہ ان کے پاس کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ کتاب سے ان کی وابستگی ہے۔

انہیں ایک باوقار محقق اور سنجیدہ ادیب کا مقام دیا۔پروفیسر مظفر حسین وڑائچ کا نام ساہیوال کے ادبی ماحول، گورنمنٹ کالج ساہیوال کی علمی روایت اور اردو ادب کے فروغ کے ساتھ بھی جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

پروفیسر صاحب ساہیوال کا علمی سرمایہ ہیں۔ استاد اور محقق ہیں، کتاب دوست بھی اور اقبالیات کے سنجیدہ شناور بھی۔ساہیوال کے ادبی اور علمی منظرنامے میں ان کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جاتا ہے۔