ڈاکٹر مہدی حسن

ڈاکٹر مہدی حسن پاکستان کے نامور صحافی، مبصر، سیاسی تجزیہ کار، ماہرِ تعلیم اور انسانی حقوق کے علمبردار تھے۔ وہ 27 جون 1937ء کو پانی پت ہندوستان میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے ساہیوال میں قیام کیا، جہاں سے ان کی تعلیمی اور فکری شخصیت کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
ڈاکٹر مہدی حسن کو زمانۂ طالب علمی ہی سے صحافت، ادب، فوٹوگرافی اور مطالعے سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز موجودہ ساہیوال ہی سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے صحافت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی مکمل کی۔
صحافت کے میدان میں ڈاکٹر مہدی حسن نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کا پہلا کالم روزنامہ امروز میں شائع ہوا، جبکہ انہوں نے پاکستان کے بڑے اخبارات میں کالم لکھے۔ وہ روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل اور روزنامہ نوائے وقت جیسے معتبر اداروں سے بھی وابستہ رہے۔ پاکستان پریس انٹرنیشنل میں رپورٹر اور نیوز بیورو چیف کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر مہدی حسن صرف صحافی نہیں بلکہ صحافت کے استاد بھی تھے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے تقریباً 30 سال وابستہ رہے اور ہزاروں طلبہ کو صحافت، تحقیق اور آزاد سوچ کا درس دیا۔ ان کے شاگردوں میں صحافی، بیوروکریٹس، سیاست دان اور مختلف شعبوں کی نمایاں شخصیات شامل رہیں۔
انہوں نے صحافت، ابلاغِ عامہ اور سیاست پر کئی اہم کتب اور مقالہ جات بھی تحریر کیے۔ “جدید ابلاغِ عام”، “تصویری صحافت”، “The Political History of Pakistan” اور “Journalism for All” جیسی کتب ان کے علمی کام کا حصہ ہیں۔ ان کی تحریروں میں تحقیق، دلیل اور جمہوری سوچ نمایاں نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر مہدی حسن انسانی حقوق کے بھی مضبوط حامی تھے۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین رہے اور ملک میں آزادیٔ اظہار، جمہوریت اور شہری حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے۔ 23 فروری 2022ء کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا، وہ حقیقی طور پر شانِ ساہیوال تھے۔


