مجید امجد

اردو ادب کی ایسی شخصیت، جو شہرت اور نام و نمود سے دور رہ کر اپنے فن کی طاقت سے آج بھی زندہ ہے۔ مجید امجد اردو نظم کے ایسے شاعر تھے جنہوں نے زندگی، وقت، انسان، تنہائی، فطرت اور معاشرتی حقیقتوں کو ایک منفرد اور گہرے انداز میں بیان کیا۔ ان کی شاعری میں فلسفہ بھی ہے، درد بھی، خاموش احتجاج بھی اور زندگی کا سچا احساس بھی۔
مجید امجد 29 جون 1914ء کو جھنگ میں پیدا ہوئے۔ اصل نام عبدالمجید مگر مجید امجد کے نام سے شہرت پائی۔ جھنگ اور لاہور سے تعلیم لینے کے بعد منٹگمری (ساہیوال) سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔
ساہیوال میں محکمہ خوراک میں ملازمت اختیار کی اور طویل عرصہ وہیں فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کی سرکاری ملازمت اور شخصیت نہایت سادہ نوعیت کی تھی۔
ساہیوال کے لوگ آج بھی گواہ ہیں کہ مجید امجد اکثر سائیکل پر دفتر آیا جایا کرتے تھے۔ ایک خاموش طبع ، دبلا پتلا شخص، سادہ لباس میں سائیکل پر شہر کی گلیوں سے گزرتا تھا، مگر بہت کم لوگ جانتے تھے کہ یہی شخص اردو نظم کا ایک عظیم شاعر ہے۔کبھی تصنع، نمود و نمائش یا شہرت کی خواہش نہیں رکھتے تھے۔
مجید امجد دراصل تنہائی پسند تھے، مگر ان کا ادبی ذوق نہایت بلند تھا۔ وہ کتابوں، مطالعے اور فکری گفتگو سے گہرا شغف رکھتے تھے۔
روایتی محفلوں کے ہنگامے سے نسبتاً دور رہتے تھے، لیکن اہلِ علم ان کی علمی بصیرت کے معترف تھے۔ ان کے حلقۂ احباب میں ادب سے وابستہ کئی اہم شخصیات شامل تھیں۔ وہ زیادہ بولنے کے بجائے خاموش مشاہدے کو ترجیح دیتے تھے، اور یہی مشاہدہ بعد میں ان کی نظموں میں گہرے فکری رنگ کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
انتظامیہ ساہیوال نے شہر کی توسیع کے لیے نہر کنارے کھڑے درخت کاٹے تو اس ہرے بھرے جنگل نما شہرِ ساہیوال کے اس سانحے پر مجید امجد اشعار کی صورت میں پکار اٹھے :
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر، بانکے پہرے دار
گھنے، سہانے، چھاؤں چھڑکتے، بُور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بِک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
اور آگے:
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر، چھٹتے برگ و بار
یہ نظم دراصل درختوں کی کٹائی اور فطرت کی بربادی پر ایک نوحہ تھی،
مجید امجد بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔ انہوں نے اردو نظم کو ایک نئی فکری جہت دی۔ ان کی نظموں میں علامتیں، داخلی کرب اور گہری فکر موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین انہیں اردو نظم کے بڑے شاعروں میں شمار کرتے ہیں۔ بعض ادبی حلقے تو انہیں ن م راشد اور میراجی کے ہم پلہ شاعر قرار دیتے ہیں۔
مجید امجد کا ادبی قد اتنا بلند ہے کہ آج اردو نظم کی تاریخ ان کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ زندگی میں انہیں وہ شہرت نہ مل سکی جس کے وہ حق دار تھے، مگر وفات کے بعد ان کی عظمت کو بھرپور انداز میں تسلیم کیا گیا۔
ان کی مشہور نظموں میں کنواں، آٹو گراف، رات، جنگل
ایک پرانی قبر پر، حسرتِ تعمیر، بچے، لوہار اور پنواڑی اردو ادب کا شاہکار ہیں۔
مجید امجد کے مختلف مجموعہ کلام میں، شبِ رفتہ، کلیاتِ مجید امجد، خوابِ شب،بازگشت، اردو ادب میں ایک قیمتی خزانہ ہے۔
مجید امجد 11 مئی 1974ء کو ساہیوال میں اپنے گھر ہی میں مردہ پائے گئے۔ جو آج تک ایک معمہ ہے۔ کیونکہ وہ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عہد، ایک فکر اور ایک احساس کا نام تھے۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ زندگی گزاری مگر اپنی شاعری سے اردو ادب کو ہمیشہ کے لیے مالا مال کر دیا۔
ساہیوال کی ادبی شناخت میں ان کا نام ہمیشہ روشن رہے گا، اور اردو نظم جب بھی یاد کی جائے گی، مجید امجد کا ذکر محبت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا کیونکہ وہ حقیقی طور پر شانِ ساہیوال اور شانِ اردو ادب تھے۔


