کنور مہندر سنگھ بیدی

کنور مہندر سنگھ بیدی اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب تھے۔ ان کا تخلص سحر تھا. 9 مارچ 1908ء کو ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے۔
گورنمنٹ کالج لاہور سے تاریخ اور فارسی پڑھی۔ فارسی اور اردو سے گہری دلچسپی نے ان کے شعری ذوق کو نکھارا۔ وہ کم عمری ہی سے شعر کہنے لگے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ اردو مشاعروں کی ایک مقبول اور مؤثر آواز بن گئے۔
کنور مہندر سنگھ اردو اکادمی دہلی سے اس کے قیام کے زمانے ہی سے وابستہ رہے اور اس کے وائس چیئرمین بھی رہے۔ اس کے علاوہ وہ آل انڈیا اردو ایڈوائزری کمیٹی کے رکن اور ہند پاک پریم سبھا کے بانی بھی تھے۔ ان کی شخصیت کا بنیادی وصف محبت، برداشت، امن اور مشترکہ تہذیبی ورثے سے وابستگی تھا۔
ان کے مجموعۂ کلام میں “یادوں کا جشن” اور “طلوعِ سحر” خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ریختہ کے مطابق ان کی دستیاب کتابوں میں “یادوں کا جشن”، “طلوعِ سحر”، “کلام کنور مہندر سنگھ بیدی سحر”، “کلیاتِ سحر” اور “پیغامِ محبت” شامل ہیں۔ ان کتابوں میں ان کا شعری مزاج، تہذیبی شعور، محبت کا جذبہ اور انسان دوستی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
بیدی صاحب کی شاعری میں مذہبی رواداری اور تہذیبی ہم آہنگی کا رنگ گہرا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ کنور مہندر سنگھ بیدی “سحر” نے نعتیہ اشعار بھی کہے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی عقیدت کا اظہار نہایت محبت بھرے انداز میں کیا۔ان کے نعتیہ کلام کے چند اشعار:
“ہم کسی دین سے ہوں، قائلِ کردار تو ہیں
نام لیوا ہیں محمدؐ کے پرستار تو ہیں”
“عشق ہو جائے کسی سے، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدؐ پہ اجارہ تو نہیں”
کنور مہندر سنگھ بیدی “سحر” کا انتقال 18 جولائی 1992ء کو دہلی میں ہوا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کا نام اردو ادب میں محبت، تہذیب، رواداری اور انسان دوستی کی علامت کے طور پر زندہ ہے۔ وہ ساہیوال کی مٹی سے اٹھنے والی ایک ایسی ادبی آواز تھے جس نے اردو شاعری کو شائستگی، خلوص اور وسیع انسانی جذبے سے مالا مال کیا


