شانِ ساہیوال

ڈاکٹر حنا جمشید

Dr Hina Jamshaid

ڈاکٹر حنا جمشید صاحبہ اردو کی معروف محقق، نقاد، افسانہ نگار، ناول نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا تعلق درس و تدریس اور تحقیق کے شعبے سے بھی ہے۔ وہ گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبۂ اردو میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادب، تاریخ، تہذیب، ثقافت اور زبان و بیان کے مسائل گہری سنجیدگی کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

ڈاکٹر حنا کی نمایاں تصنیفات میں تاریخی ناول ”ہری یوپیا“ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہ ناول ہڑپہ کی قدیم تہذیب و تمدن کے پس منظر میں لکھا گیا ہے اور اس میں تاریخ، تہذیب اور انسانی معاشرت کو ادبی پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس ناول کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یہ قدیم تہذیب کے تاریخی شہر ہڑپہ کے پس منظر میں تخلیق کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”ہری یوپیا“ محض ایک ناول نہیں بلکہ تہذیبی شعور، تاریخی احساس اور تخلیقی اظہار کا خوبصورت امتزاج بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر حنا جمشید کی علمی و تحقیقی کتابوں میں ”عالمگیریت، ثقافت اور ادب“، ”کلامِ غالب کی دو مستند شرحیں“، ”کُھلی تاریخ“ اور ”مصنوعی ذہانت“ جیسے عنوانات شامل ہیں۔۔۔

بک کارنر کی فہرست میں ان کی کتب میں ”مصنوعی ذہانت“، ”عالمگیر ثقافت اور ادب“، ”کلامِ غالب کی دو مستند شرحیں“ اور ”سحرِ بنگال: بنگلہ دیشی ادب کی منتخب کہانیاں“ درج ہیں۔ ان عنوانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی دلچسپی صرف روایتی ادبی موضوعات تک محدود نہیں بلکہ وہ جدید علمی، تہذیبی اور فکری مباحث کو بھی اردو کے دائرے میں لاتی ہیں۔

ان کی ایک اہم کاوش مشہور و معروف روایات ”کلیلہ و دمنہ“ کی تسہیل و تدوین بھی ہے، جس کے ذریعے کلاسیکی ادب کو نئے قارئین کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کیا گیا۔

اس حوالے سے حنا جمشید کا نام ”کلیلہ و دمنہ“ کی تدوین کے طور درج ہے۔ یہ کام اس لحاظ سے اہم ہے کہ کلاسیکی متون کو آسان زبان اور جدید قاری کے ذوق کے مطابق پیش کرنا اردو ادب کی خدمت ہے۔

مجموعی طور پر ڈاکٹر حنا جمشید کی تصنیفات میں تحقیق، تنقید، تاریخ، تہذیب، ناول نگاری اور کلاسیکی ادب کی تفہیم جیسے کئی رنگ موجود ہیں۔ وہ ماضی کو حال سے جوڑتی ہیں، ادب کو تہذیبی شعور کے ساتھ پڑھتی ہیں اور اردو قاری کے سامنے ایسے موضوعات لاتی ہیں جو علمی بھی ہیں اور تخلیقی بھی۔ ان کا کام اردو ادب میں ایک سنجیدہ، باشعور اور فکری سمت رکھنے والی مصنفہ کی حیثیت سے قابلِ قدر ہے۔