بابو رجب علی خان — شانِ ساہیوال

بابو رجب علی خان پنجابی کے نامور شاعر اور کویشری کے معروف نمائندہ تھے۔ وہ 10 اگست 1894ء کو فیروزپور کے گاؤں ساہوکے میں ایک مسلم راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد سول انجینئرنگ اور اوورسیئر کا ڈپلومہ حاصل کیا، آب پاشی کے محکمے میں ملازمت کی اور اسی نسبت سے بابو جی کہلائے۔
انہوں نے مالوائی لہجے اور پنجابی لوک ثقافت کو اپنی شاعری میں محفوظ کیا۔ ڈُلا بھٹی، ہیر رانجھا، مرزا صاحباں، پورن بھگت، حسن حسین، بھگت سنگھ، بابا دیپ سنگھ اور ساکا سرہند سمیت متعدد لوک و تاریخی داستانیں کویشری انداز میں پیش کیں۔ ان کی درجنوں لوک داستانیں پنجابی ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
1947ء کے بعد وہ اوکاڑہ اور ساہیوال کے علاقے میں آ بسے، زندگی کے آخری سال یہیں گزارے اور یہیں مدفون ہوئے۔ بابو رجب علی خان 6 جون 1979ء کو وفات پا گئے۔ ان کا ادبی ورثہ آج بھی پنجابی لوک ادب کے محققین کے لیے اہم ہے۔


