یزدانی جالندھری — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں نامور ادیب و شاعر حضرت یزدانی جالندھری کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔
یزدانی جالندھری کا اصل نام ابو بشیر سید عبدالرشید یزدانی تھا۔ وہ 16 جولائی 1915ء کو بھارتی پنجاب کے تاریخی شہر جالندھر میں ایک گیلانی سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید بہاول شاہ گیلانی محکمۂ تعلیم میں صدر مدرس تھے، اس لیے بچپن ہی سے تعلیم اور مطالعے کا ماحول میسر آیا۔ ان کا تخلص یزدانی اور نسبت جالندھری ان کی ادبی شناخت بن گئی۔
ابتدائی تعلیم جالندھر میں حاصل کی۔ تقسیمِ ہند سے قبل خاندان جالندھر سے منٹگمری، موجودہ ساہیوال، منتقل ہوگیا اور ان کی زندگی کا اہم حصہ ساہیوال سے وابستہ رہا۔ مزید تعلیم کے لیے اسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے۔ ان کے دوستوں میں حمید نظامی، نسیم حجازی، ضمیر جعفری اور مرزا ادیب شامل تھے۔ شاعری کا شوق کم عمری میں پیدا ہوا؛ ابتدائی اصلاح تاجور نجیب آبادی سے اور بعد میں مولانا افسر صدیقی امروہوی سے مشورۂ سخن حاصل کیا۔
1933ء میں انہوں نے ادبی جریدہ "غالب" جاری کیا۔ کالج کے بعد کچھ عرصہ بمبئی کی فلمی صنعت سے وابستہ رہے، جہاں ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی اور جاں نثار اختر جیسے اہلِ قلم سے رفاقت رہی۔ خوشتر گرامی کے رسالے "بیسویں صدی" کی ادارت بھی کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد کراچی میں ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور صہبا لکھنوی کے رسالے "افکار" کی مجلسِ ادارت میں شامل رہے۔
انہوں نے بعض فلموں کے لیے گیت اور مکالمے لکھے۔ پاکستانی فلم "شکار" کے لیے ان کے لکھے گیت "نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچا نہ ہو جائے" اور "میرے خیال و خواب کی دنیا لیے ہوئے، پھر آگیا کوئی رخِ زیبا لیے ہوئے" مہدی حسن نے گائے۔ ساٹھ کی دہائی میں لاہور منتقل ہوئے اور "نیا راستہ"، "امدادِ باہمی"، "انقلابِ نو"، "محفل"، "اداکار" اور "اردو ڈائجسٹ" جیسے رسائل کے ساتھ کام کیا۔ روزنامہ "سیاست" کے ادارتی عملے، ادارۂ ادب اور پاکستان رائٹرز گلڈ سے بھی وابستہ رہے۔
ان کی شاعری و نثر محفل، فنون، نقوش، تخلیق، شام و سحر، افکار اور پنج دریا جیسے رسائل میں شائع ہوتی رہی۔ ان کے شعری مجموعوں میں "ساغرِ انقلاب"، "صبحِ سعادت"، "توراتِ دل" اور "توصیف" شامل ہیں۔ نثری تصانیف میں "لاہور کے شاعروں کا تذکرہ"، "حسن پرست"، "سماج" اور "قیدی کے خطوط" کے نام ملتے ہیں۔ وہ مترجم بھی تھے؛ ان کے تراجم میں "گورا"، "آوارہ"، ٹالسٹائی کے افسانے، "نیرنگِ مغرب"، "وادیٔ پرخار" اور دیگر کتب شامل ہیں۔
ان کے اشعار میں کلاسیکی شعری روایت، عشق، انسانی جذبات، زندگی کے تجربات اور داخلی کیفیات نمایاں ہیں:
بزمِ وفا سجی تو عجب سلسلے ہوئے
شکوے ہوئے نہ ان سے نہ ہم سے گلے ہوئے
ملا ہے تپتا صحرا دیکھنے کو
چلے تھے گھر سے دریا دیکھنے کو
زندگی کوہِ بے ستوں گویا
ہر نفس ایک تیشۂ فرہاد
یزدانی جالندھری 22 مارچ 1990ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ وہ شاعر کے ساتھ صحافی، مدیر، افسانہ نگار، مترجم، نقاد اور فلمی نغمہ نگار بھی تھے۔ ان کا ادبی سفر جالندھر، ساہیوال، بمبئی، کراچی اور لاہور تک پھیلا ہوا تھا اور وہ یقیناً ساہیوال کی شان تھے۔

%2520%25E2%2580%2594%2520%25D8%25B4%25D8%25A7%25D9%2586%25D9%2590%2520%25D8%25B3%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D9%2588%25D8%25A7%25D9%2584-1-768x477.png&w=3840&q=75)