شانِ ساہیوال

ایزد عزیز — شانِ ساہیوال

ChatGPT Image Sep 19, 2026, 12_09_53 PM.png

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔


ساہیوال کی ادبی تاریخ میں ایزد عزیز کا نام نمایاں ہے۔ وہ اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ ایزد عزیز اگست 1954ء میں ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام عثمان عزیز تھا، مگر ادبی دنیا میں انہوں نے ایزد عزیز کے نام سے شناخت بنائی۔ ان کے والد پولیس ملازم تھے اور گھر کا ماحول ادبی تھا؛ اسی وجہ سے انہوں نے 17 برس کی عمر میں شاعری شروع کردی۔


انہوں نے اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی بھرپور تخلیقی کام کیا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ "غروبِ شب" تھا، جس نے انہیں سنجیدہ ادبی حلقوں میں پہچان دی۔ افسانوی مجموعہ "عالمِ ارواح کی مال روڈ پر" ان کی نثر، گہرے مشاہدے اور منفرد اسلوب کی نمائندگی کرتا ہے۔ پنجابی کتاب "کلے رُکھ دا وین" ان کے ادبی سرمائے کا اہم حصہ ہے، جبکہ "تسلیم" سلام و منقبت پر مشتمل قابلِ ذکر تصنیف ہے۔


ایزد عزیز ساہیوال کی مقامی ادبی سرگرمیوں میں فعال رہے۔ انہوں نے بینک میں ملازمت کی اور ریڈیو پاکستان سے بھی وابستہ رہے۔ ان کی شاعری و نثر میں ساہیوال کی مٹی کی خوشبو، انسان اور معاشرے کا شعور، وقت کے بدلتے رنگ اور علاقائی تہذیب نمایاں ہیں۔ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کو تخلیقی شناخت کا حصہ بناکر انہوں نے ساہیوال کے ادبی ورثے میں قیمتی اضافہ کیا۔


ایزد عزیز 27 دسمبر 2020ء کو عارضۂ قلب کے باعث وفات پاگئے اور ساہیوال کے ماہی شاہ قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔ وہ صرف شاعر یا افسانہ نگار نہیں بلکہ ساہیوال کی تہذیبی و ادبی شناخت کا معتبر حوالہ تھے۔