شانِ ساہیوال

شیخ ظفر علی — شانِ ساہیوال

شیخ ظفر علی — شانِ ساہیوال

شیخ ظفر علی ساہیوال سے تعلق رکھنے والے قومی کھیلوں کے عظیم منتظم، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے بانی سیکرٹری اور قومی ہیرو تھے۔


شیخ ظفر علی 1904ء میں بٹالہ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے پاکستان کے کھیلوں کے نظام کو منظم کرنے، قومی ٹیموں کو عالمی مقابلوں تک پہنچانے اور پاکستان کو اولمپک برادری میں نمایاں مقام دلانے کے لیے تقریباً 35 سال خدمات انجام دیں۔


پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن فروری 1948ء میں قائم ہوئی اور شیخ ظفر علی اس کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔ 22 اپریل 1948ء کو کراچی میں پاکستان کے پہلے قومی اولمپک کھیلوں کے انعقاد میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان مقابلوں میں تقریباً 1200 کھلاڑیوں نے ایتھلیٹکس، ہاکی، فٹ بال، باکسنگ، کشتی اور تیراکی سمیت مختلف کھیلوں میں حصہ لیا اور افتتاح قائداعظم محمد علی جناح نے کیا۔


ان کی کوششوں سے پاکستان آزادی کے صرف ایک سال بعد لندن اولمپکس 1948ء میں شریک ہوا۔ پاکستان کے پہلے اولمپک دستے میں چھ کھیلوں کے 39 کھلاڑی شامل تھے۔ ان کے انتظامی دور میں 1956ء کے میلبورن اولمپکس کا ہاکی سلور، 1960ء کے روم اولمپکس کا تاریخی ہاکی گولڈ، 1964ء کا سلور اور ایشیائی کھیلوں کے متعدد طلائی تمغے حاصل ہوئے۔


1974ء میں وہ ایشیائی کھیلوں کی فیڈریشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے اور 1978ء تک خدمات انجام دیں۔ وہ کھلاڑیوں کی تربیت، سفری انتظام، فنڈنگ، رہائش اور فلاح پر خصوصی توجہ دیتے تھے اور صوبائی اولمپک ایسوسی ایشنز کے قیام میں بھی معاون رہے۔


ساہیوال میں منٹگمری سٹیڈیم کی تعمیر اور بعد ازاں اس کا شیخ ظفر علی اسٹیڈیم کے نام سے معروف ہونا ان کی خدمات کی یادگار ہے۔ لاہور میں سپورٹس ٹریننگ اینڈ کوچنگ سینٹر اور اولمپک ہاؤس کے قیام میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔


شیخ ظفر علی کو قیصرِ ہند، تمغۂ خدمت اور بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے اولمپک آرڈر سمیت مختلف اعزازات ملے۔ انہوں نے 1983ء میں پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی سیکرٹری شپ چھوڑی اور 21 اپریل 1985ء کو وفات پائی۔ انہیں ساہیوال میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کا نام ساہیوال اور پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ کا روشن باب ہے۔