شانِ ساہیوال

فرخندہ لودھی — شانِ ساہیوال

فرخندہ لودھی — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی شخصیت پنجابی اور اردو کی معروف افسانہ نگار، ناول نگار فرخندہ لودھی ہیں۔۔


اصل نام فرخندہ اختر! 21 مارچ 1937ء کو بھارتی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے منٹگمری، میں آباد ہوا۔ یہی شہر ان کی شخصیت، تعلیم اور فکری بنیادوں کا اہم مرکز بنا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی، گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ساہیوال سے میٹرک کیا اور گورنمنٹ کالج برائے خواتین ساہیوال سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے لائبریری سائنس میں ڈپلوما حاصل کیا اور 1963ء میں اردو ادب میں ایم اے مکمل کیا۔


1961ء میں ان کی شادی گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ اردو کے نامور استاد، نقاد اور محقق پروفیسر صابر علی لودھی سے ہوئی۔ شادی کے بعد وہ فرخندہ اختر سے فرخندہ لودھی کہلائیں، اور یہی نام اردو و پنجابی ادب میں ان کی شناخت بن گیا۔


فرخندہ لودھی نے عملی زندگی کا آغاز گورنمنٹ کالج لاہور، موجودہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، میں بطور لائبریرین کیا۔ کتابوں سے ان کا رشتہ محض پیشہ ورانہ نہیں تھا، بلکہ ایک فکری اور روحانی وابستگی بھی تھی۔ وہ برسوں تک ان کتابوں کی محافظ رہیں اور 1997ء میں چیف لائبریرین کے منصب سے ریٹائر ہوئیں۔ ایک طرف وہ کتابوں کی امین تھیں، دوسری طرف خود ایسی کتابیں لکھ رہی تھیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ادبی حوالہ بن گئیں۔


ان کے ادبی سفر کا آغاز 1960ء کی دہائی میں ہوا۔ ان کا پہلا مطبوعہ افسانہ “گولڈ فلیک” تھا جو 1964ء میں شائع ہوا۔ مگر انہیں اصل شہرت افسانہ “پاربتی” سے ملی، جو ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں لکھا گیا۔ان کی تحریروں میں معاشرتی ناہمواریاں، طبقاتی فرق، دیہی اور شہری زندگی کے تضادات، عورت کی محرومی، اس کی خاموشی، اس کی بغاوت اور اس کا اندرونی کرب پوری سچائی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ وہ عورت کو صرف مظلوم کردار بنا کر نہیں لکھتیں، بلکہ اسے سوچنے، سوال کرنے اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے والی شخصیت کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نسوانی کردار کمزور نہیں، باطن میں مضبوط اور زندہ محسوس ہو۔


ان کا اسلوب سادہ مگر گہرا تھا۔ وہ مشکل لفظوں کے زور پر اثر پیدا نہیں کرتیں، بلکہ زندگی کی عام سی باتوں میں چھپی ہوئی غیر معمولی حقیقت کو سامنے لے آتی ہیں۔ ان کے افسانوں میں گاؤں کی مٹی بھی ہے، شہر کا شور بھی، عورت کا دکھ بھی، معاشرے کی بے حسی بھی اور انسان کے اندر چھپی ہوئی امید بھی۔


فرخندہ لودھی کی معروف کتابوں میں:


شہر کے لوگ، آرسی، خوابوں کے کھیت، رومان کی موت، پارس، چنے دے اوہلے اور ہڈ بیتی / جگ بیتی شامل ہیں۔ شہر کے لوگ اور خوابوں کے کھیت میں ان کی افسانہ نگاری کا گہرا سماجی شعور نظر آتا ہے۔ رومان کی موت” میں رومانوی تصور کے ٹوٹنے اور حقیقی زندگی کے تلخ پہلوؤں کو موضوع بنایا گیا۔ آرسی ان کا ناولٹ ہے، جبکہ پارس ان کا ایک اہم اور ضخیم ناول۔


فرخندہ لودھی نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں لکھ کر یہ ثابت کیا کہ زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں ہوتی، بلکہ تہذیب، زمین اور انسان سے تعلق کا نام بھی ہے۔ وہ ساہیوال کی اس ادبی روایت کا حصہ ہیں جس نے مقامی زندگی کو بڑے ادبی تناظر میں دیکھا اور عام انسان کے دکھ کو ادب کا موضوع بنایا۔


5 مئی 2010ء کو فرخندہ لودھی لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 73 برس تھی، فرخندہ یقینا" شانِ ساہیوال بلکہ شانِ پاکستان تھیں۔