شانِ ساہیوال

ڈاکٹر خورشید رضوی — شانِ ساہیوال

ڈاکٹر سید ریاض ہمدانی — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں معروف شاعر، محقق، مترجم اور ماہرِ زبان ڈاکٹر خورشید رضوی کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔


ڈاکٹر خورشید رضوی 19 مئی 1942ء کو امروہہ میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان آیا اور ساہیوال کو اپنا مسکن بنایا۔ ساہیوال ہی میں ان کی ابتدائی ذہنی، علمی اور ادبی تشکیل ہوئی۔ انہوں نے ساہیوال کے تعلیمی اداروں سے علم حاصل کیا اور گورنمنٹ کالج ساہیوال سے وابستگی نے ان کے علمی سفر کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔


ڈاکٹر خورشید رضوی کی علمی شخصیت ہمہ جہت ہے۔ وہ عربی ادب کے شناور، فارسی و اردو کے صاحبِ ذوق قاری، محقق، مترجم، نقاد اور شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی شعور اور جدید حسیت ساتھ ساتھ ملتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان کی شائستگی، لہجے کی تہذیب، خیال کی تہ داری اور احساس کی پاکیزگی نمایاں ہے۔ وہ غزل کو صرف جذبات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بناتے بلکہ اسے تہذیبی حافظے، فکری گہرائی اور انسانی تجربے کی سنجیدہ صورت عطا کرتے ہیں۔


ساہیوال کے لیے ان کا نام اس لیے بھی اہم ہے کہ اس شہر کی علمی فضا سے پیدا ہونے والی قابلیت کو انہوں نے قومی سطح پر منوایا۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سمیت کئی اہم ادبی اعزازات سے نوازا۔ ان کی کتابیں، تحقیقی کام، تراجم اور شعری مجموعے اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے علم کو محض پیشہ نہیں بلکہ زندگی کا مقصد سمجھا۔


ان کی شاعری شور و غوغا سے دور رہ کر گہرے انسانی تجربات کو نرم مگر مؤثر لہجے میں بیان کرتی ہے۔ دکھ تہذیب کے ساتھ، یاد وقار کے ساتھ اور تنہائی ایک فکری کیفیت بن کر سامنے آتی ہے۔ ان کا علمی کام اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور پنجابی زبانوں کے باہمی مکالمے کی ایک وسیع روایت سے جڑا ہوا ہے۔


ان کے نمونہ اشعار میں یہ اشعار بھی شامل ہیں:


آخر کو ہنس پڑیں گے کسی ایک بات پر

رونا تمام عمر کا بے کار جائے گا


تمام عمر اکیلے میں تجھ سے باتیں کیں

تمام عمر ترے روبرو خموش رہے


ڈاکٹر خورشید رضوی ساہیوال کی علمی تاریخ کا روشن باب، نئی نسل کے لیے مثال اور اردو ادب کے لیے ایک معتبر حوالہ ہیں۔