پروفیسر عبدالقیوم صبا — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں شاعر، ادیب، ماہرِ تعلیم، خطیب اور روحانی شخصیت پروفیسر عبدالقیوم صبا کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔
پروفیسر عبدالقیوم صبا 4 اکتوبر 1942ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے وقت خاندان کے ہمراہ ساہیوال آئے اور اسی شہر کو اپنی علمی، ادبی اور عملی زندگی کا مرکز بنالیا۔ ان کے والد راؤ خورشید خان حافظِ قرآن تھے، جن کی دینی تربیت اور گھر کے روحانی ماحول نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے گورنمنٹ ہائی اسکول ساہیوال سے میٹرک، گورنمنٹ کالج ساہیوال سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے اردو کیا۔ زمانۂ طالب علمی میں گورنمنٹ کالج ساہیوال کے ادبی مجلے "ساہیوال" کے مدیر بھی رہے۔ ابتدا میں افسانہ نگاری اور ڈراما نویسی کی طرف متوجہ ہوئے، پھر غزل اور شاعری کو اپنا بنیادی وسیلۂ اظہار بنایا۔ 1970ء سے 1974ء تک ساہیوال کے عظیم شاعر مجید امجد کی صحبت اور رفاقت نے ان کے شعری ذوق اور فکری پختگی پر گہرا اثر ڈالا۔
وقت کے ساتھ ان کی شاعری کا رجحان حمد و نعت کی طرف بڑھا۔ ان کے کلام میں عشقِ رسول ﷺ، اسلامی روایات، روحانی کیفیات، اخلاقی اقدار اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔ ان کے حمدیہ و نعتیہ کلام کو "ممدوحِ محمد ﷺ" کے نام سے شائع کیا گیا، ملفوظات "راہِ قوسین" اور علمی، دینی و اصلاحی خطبات "جمال الراسخین" کے نام سے مرتب ہوئے۔
1980ء میں پروفیسر عبدالقیوم صبا نے ڈاکٹر غلام محمد حیدرآبادی سے بیعت کی، جو علامہ سید سلیمان ندوی کے خلیفۂ مجاز تھے۔ روحانی تربیت اور مجاہدے کے بعد ان سے وابستہ ہزاروں مریدین نے دینی رہنمائی حاصل کی۔ انہوں نے تقریباً پچیس سال تک مکی مسجد، کربلا روڈ ساہیوال میں نمازِ جمعہ کی امامت اور خطبہ دیا۔ ان کے خطبات علم، حکمت، دینی بصیرت اور اصلاحِ معاشرہ کا امتزاج ہوتے تھے۔
وہ کثیرالمطالعہ، حلیم الطبع، ملنسار اور باوقار شخصیت تھے۔ بطور استاد انہوں نے ہزاروں شاگردوں کی علمی، ادبی اور اخلاقی تربیت کی۔ ان کے مزاج میں متانت، سادگی، شائستگی اور انکسار نمایاں تھا۔ ان کی مجالس علم، ادب، مذہب، تاریخ اور روحانیت کے موضوعات سے آراستہ رہتیں۔
پروفیسر عبدالقیوم صبا 9 اکتوبر 2011ء کو وفات پاگئے، مگر ان کی کتابیں، خطبات، ملفوظات، شاگرد اور مریدین ان کے علمی، ادبی، دینی اور روحانی ورثے کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ساہیوال کی علمی، ادبی اور دینی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔

