شانِ ساہیوال

سید واصف سجاد — شانِ ساہیوال

سید واصف سجاد

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں معروف شاعر سید واصف سجاد کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ اہلِ ادب ساہیوال کو محبت سے شہرِ غزل کہتے ہیں اور اس شہر کی شعری روایت کو منفرد اسلوب، جدید احساس اور فکری پختگی کے ساتھ آگے بڑھانے والے اہم ناموں میں سید واصف سجاد شامل ہیں۔


ان کا اصل نام سید سجاد حیدر رضوی، قلمی نام واصف سجاد ہے۔ اگست 1969ء میں فیصل آباد میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں ساہیوال آگئے۔ انہوں نے 1985ء میں باقاعدہ شاعری شروع کی۔ اس دور میں معروف شاعر جعفر شیرازی کی سنگت اور شاگردی نصیب ہوئی، جس نے ان کے شعری ذوق اور فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔


ان کی شاعری زندگی کے روشن اور تاریک دونوں پہلوؤں کا متوازن اظہار ہے۔ اداسی ان کے ہاں شکست یا مایوسی نہیں بلکہ غوروفکر، تخلیقی توانائی اور داخلی روشنی کا سرچشمہ بن جاتی ہے۔ یہی فکری رویہ ان کے شعری مجموعے "ملال روشن ہیں" کے عنوان میں نمایاں ہے۔ وہ کہتے ہیں:


بہت عزیز ہیں مجھ کو اداسیاں میری

انہی کے دم سے مرے ماہ و سال روشن ہیں


ان کا پہلا شعری مجموعہ "سخن کیا کہہ نہیں سکتے" 2013ء میں شائع ہوا۔ "ملال روشن ہیں" ان کا دوسرا مجموعہ ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی غزل کی تہذیب، شائستگی اور موسیقیت کے ساتھ جدید انسان کا اضطراب، تنہائی، خواب، امید اور محرومی بھی موجود ہے۔ ان کے اشعار سادہ مگر تہہ دار انداز میں قاری تک پہنچتے ہیں۔


کسی بھی پل نہ ہوا حوصلہ ہمارا کم

کچھ ایسے خواب، کچھ ایسے خیال روشن ہیں


سید واصف سجاد ساہیوال کی ادبی تقریبات، مشاعروں اور فکری نشستوں میں فعال رہتے ہیں۔ ساہیوال آرٹس کونسل کی محافل میں شرکت اور حلقۂ اربابِ ذوق ساہیوال کی تنقیدی نشست کی صدارت مقامی ادبی حلقوں میں ان کے معتبر مقام کی علامت ہے۔ تدریس سے وابستگی نے ان کے مزاج میں مطالعہ، نظم و ضبط اور فکری وسعت پیدا کی۔ دستیاب ادبی تعارف میں انہیں ڈی پی ایس کالج ساہیوال سے وابستہ لیکچرار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔


ان کی ادبی صلاحیتوں پر بی ایس سطح کا مقالہ لکھا جاچکا ہے اور 2024ء میں انہیں مجید امجد ادبی ایوارڈ بھی ملا۔ ان کی شاعری غم کو تاریکی نہیں بننے دیتی؛ دکھ فکر، اداسی تخلیق، خواب حوصلے اور ملال روشنی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔


واصف سجاد ساہیوال کی زندہ ادبی روایت کے شاعر، استاد اور فکری نمائندہ ہیں۔