ملک ندیم کامران (مرحوم) — شانِ ساہیوال
%2520%25E2%2580%2594%2520%25D8%25B4%25D8%25A7%25D9%2586%25D9%2590%2520%25D8%25B3%25D8%25A7%25DB%2581%25DB%258C%25D9%2588%25D8%25A7%25D9%2584-1-1280x796.png&w=3840&q=75)
سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں آج کی مہمان شخصیت ہیں ملک ندیم کامران (مرحوم)
ملک ندیم کامران ساہیوال کی سیاست کا ایک نمایاں، تجربہ کار اور بااثر نام تھے۔ 3 اگست 1953 کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ دورانِ تعلیم سیاست میں متحرک ہوئے اور گورنمنٹ کالج ساہیوال کی طلبہ یونین کے صدر بھی منتخب ہوئے۔
ان کا پارلیمانی سیاسی سفر 1997 میں پنجاب اسمبلی کا رکن منتخب ہونے سے شروع ہوا۔ اس دور میں انہوں نے پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ 2008، 2013 اور 2018 میں بھی ساہیوال سے پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مختلف ادوار میں صوبائی وزیر خوراک، زکوٰۃ و عشر، سیاحت اور منصوبہ بندی و ترقیات جیسے اہم محکموں کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
ملک ندیم کامران کو ساہیوال میں “معمارِ ساہیوال” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ساہیوال کو ڈویژن کا درجہ دلوانے، یونیورسٹی آف ساہیوال، میڈیکل کالج اور دیگر کئی ترقیاتی منصوبوں کو ان کے سیاسی کردار اور عوامی خدمت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو ساہیوال کی ترقی، تعلیمی سہولیات اور عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے استعمال کیا۔
وہ ایک ایسے عوامی نمائندے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جنہوں نے ساہیوال کی صوبائی سیاست میں مستقل کردار ادا کیا اور شہر کی ترقی کے کئی اہم منصوبوں کے ساتھ اپنا نام جوڑا۔ ان کا سیاسی سفر ساہیوال کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ وہ طویل علالت کے بعد 15 مئی 2026 کو لاہور میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آج کل ان کے بیٹے ملک قاسم ندیم صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں۔

