شانِ ساہیوال

حسرت بلال حسرت — شانِ ساہیوال

حسرت بلال حسرت — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی شخصیت بے مثل غزل گو شاعر کی ہے۔ یعنی حسرت بلال حسرت صاحب!


نام حسرت بلال اور تخلص حسرت، 12 مئی 1975ء کو شہرِ فرید پاکپتن شریف میں پیدا ہوئے۔ ابھی چار سال کے ہی تھے کہ اُنہیں اپنے والد گرامی جو نیشنل بینک ملازم تھے، کے ہمراہ آپ شہرِ فرید ساہیوال تشریف لے آئے۔ حسرت بلال صاحب نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول 90/9L سے حاصل کی۔ بعد ازاں انھوں نے گورنمنٹ ہائی سکول ساہیوال سے میٹرک کیا اور ملتان بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال سے ایف اے تا ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔


شاعری میں جنابِ حسرت بلال حسرت صاحب نے حمد، نعت، سلام اور غزل میں طبع آزمائی کی اور دنیائے غزل میں ایک نام کمایا۔ غزل کا ایک شعر ہے:


تمہارا ہجر جو ہے مرا گھر بنا ہوا ہے

تمہاری یاد جو ہے ہمسفر بنی ہوئی ہے


ایک اور شعر دیکھیے:


تیری تصویر مہارت سے بنا لی ہے مگر

اپنی چاہت تیری آنکھوں میں کہاں سے لاؤں؟


جنابِ حسرت بلال آل راؤنڈ کرکٹر بھی ہیں۔ گورنمنٹ ہائی سکول ساہیوال اور گورنمنٹ کالج ساہیوال سینئر کرکٹ کی آل راؤنڈر نمائندگی کر چکے ہیں۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال کے ادبی مجلہ چشمہ اردو کے ایڈیٹر رہے ہیں اور گورنمنٹ کالج ساہیوال بزمِ ادب کے صدر رہے۔ ان کے ایک ملی نغمے نے ملتان بورڈ میں اول پوزیشن حاصل کی۔


اس وقت حسرت بلال صاحب معروف ادارے DPS میں اردو کے لیکچرار ہیں۔ ان کا کلام ملک کے رسائل و جرائد میں چھپتا رہتا ہے۔ مجید امجد اکیڈمی کے جوائنٹ سیکرٹری بھی ہیں۔ جنابِ حسرت بلال کا ایک شعری دیوان زیرِ طبع ہے۔ آپ ساہیوال کی شان ہیں۔