کالم

مہنگائی اور عوام کی زندگی — ہماری زندگی کب آسان ہوگی؟

AD Ijaz

مہنگائی صرف بازار میں بڑھتی ہوئی قیمت کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو گھر کے سکون، والدین کی امید اور بچوں کی خواہشات تک کو متاثر کرتا ہے۔ باپ بچوں کی پسندیدہ چیز واپس رکھ دیتا ہے، ماں باورچی خانے کے برتن گن کر خرچ کا حساب لگاتی ہے، بجلی کا بل گھر کے سکون کو بوجھ میں بدل دیتا ہے اور پٹرول ڈلواتے وقت آدمی پہلے جیب دیکھتا ہے۔


آج عام آدمی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے، جبکہ عوامی بجٹ اور سیاسی بجٹ کے درمیان فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کے ساتھ کون کھڑا ہے؟ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج سیاسی مفاد کے لیے ہے یا واقعی عوامی ضرورت کی آواز ہے؟


مہنگائی محض معاشی مسئلہ نہیں بلکہ پورا اقتصادی بحران ہے۔ بجلی کے بل، اسکول کی فیس، ادویات، کاروبار کے اخراجات اور روزگار کی کمی نے عام شہری کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ عوام پانچ سال کے لیے صرف ووٹر نہیں بلکہ شہری ہیں؛ انہیں بجلی، روزگار، تعلیم، صحت، بہتر ٹرانسپورٹ اور ترقی کے مواقع چاہییں۔


سیاست کا اصل امتحان اقتدار کے بغیر عوام کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔ جب گھر کا بجٹ ہر ماہ پہلے سے کم پڑ جائے تو سوال صرف قیمتوں کا نہیں رہتا، یہ ریاستی ترجیحات اور سیاسی ذمہ داری کا سوال بن جاتا ہے۔ ہماری زندگی کب آسان ہو گی؟