کڑاہی گوشت

سیف بے نیام کڑاہی کا کلو: مرغی سستی، پکا گوشت اتنا مہنگا کیوں؟ ہمارے ہاں مہنگائی پر گفتگو عموماً آٹے، چینی، گھی، بجلی، گیس اور پٹرول تک محدود رہتی ہے۔ یہ سب واقعی عام آدمی کی زندگی کے بنیادی مسائل ہیں، مگر ایک مسئلہ ایسا بھی ہے جس پر کبھی سنجیدگی سے بات نہیں کی گئی۔ یہ مسئلہ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، بار بی کیو پوائنٹس اور کڑاہی ہاؤسز پر پکے ہوئے چکن کے نرخوں کا ہے۔ بازار میں مرغی کا گوشت عموماً چند سو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔ دن، موسم، شہر اور سپلائی کے مطابق اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ مگر یہی گوشت جب کسی ہوٹل کی کڑاہی میں چلا جاتا ہے، مصالحہ، تیل، گیس، مزدوری اور منافع کا لباس پہن لیتا ہے، تو اس کا ریٹ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر چکن کڑاہی، بار بی کیو، روسٹ اور گرلڈ آئٹمز کا حساب دیکھیں تو عام آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ گوشت پک رہا ہے یا سونا تولا جا رہا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ہوٹل والے صرف گوشت نہیں بیچتے۔ وہ جگہ کا کرایہ دیتے ہیں، عملے کی تنخواہیں دیتے ہیں، بجلی اور گیس کے بل ادا کرتے ہیں، مصالحہ، تیل، دہی، ٹماٹر، پیاز، پیکنگ، برتن، صفائی اور سروس کے اخراجات برداشت کرتے ہیں۔ کاروبار کرنے والے کو منافع کمانے کا پورا حق ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا منافع کا حق بے لگام منافع کا اجازت نامہ بن جانا چاہیے؟ کیا چند سو روپے کا خام مال دو ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ میں فروخت ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہونا چاہیے؟ اصل مسئلہ صرف ریٹ کا نہیں، شفافیت کا ہے۔ گاہک کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہوٹل جسے “ایک کلو کڑاہی” کہہ رہا ہے، وہ واقعی ایک کلو گوشت ہے یا اس میں ہڈی، پانی، گریوی اور مصالحے کا وزن شامل ہے۔ کہیں گوشت کم، شوربہ زیادہ ہوتا ہے۔ کہیں کلو کے نام پر مقدار ایسی ہوتی ہے کہ دو افراد بھی مطمئن نہیں ہو پاتے۔ کہیں بل میں سروس چارجز الگ، ٹیکس الگ، نان الگ، سلاد الگ، کولڈ ڈرنک الگ اور پیکنگ الگ شامل کر دی جاتی ہے۔ آخر میں گاہک کو پتا چلتا ہے کہ وہ کھانا نہیں کھا رہا تھا، ایک چھوٹا سا بجٹ اجلاس بھگت رہا تھا۔ یہاں انتظامیہ کی خاموشی سب سے زیادہ حیران کن ہے۔ شہر میں سبزی، پھل، دودھ، دہی، گوشت اور روٹی کے نرخوں پر کبھی نہ کبھی چھاپے بھی پڑ جاتے ہیں، جرمانے بھی ہو جاتے ہیں، ریٹ لسٹیں بھی چیک کر لی جاتی ہیں۔ مگر پکے ہوئے کھانے کے نام پر ہوٹلوں کو ایک ایسی کھلی چھٹی حاصل ہے جس میں کوئی واضح اصول، کوئی قابلِ فہم ریٹ فارمولا اور کوئی مؤثر نگرانی نظر نہیں آتی۔ عام آدمی پوچھتا ہے کہ اگر مرغی کے گوشت کا نرخ انتظامیہ دیکھ سکتی ہے تو مرغی کی کڑاہی کا نرخ کیوں نہیں دیکھا جا سکتا؟ یہ مسئلہ صرف کھانے پینے کا نہیں، سماجی تقسیم کا بھی ہے۔ امیر آدمی فیملی کے ساتھ ہوٹل جاتا ہے، کڑاہی، تکہ، ملائی بوٹی، روسٹ اور بار بی کیو آرڈر کرتا ہے، بل ادا کرتا ہے اور واپس آ جاتا ہے۔ مگر متوسط اور غریب طبقہ قیمتیں دیکھ کر ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ اس کے بچوں کے لیے اچھا پکا ہوا گوشت کسی ہوٹل کی میز پر نہیں، اکثر صرف شادی بیاہ، دعوت یا کسی خاص موقع پر نصیب ہوتا ہے۔ گویا ہمارے معاشرے میں اچھی خوراک بھی طبقاتی سہولت بنتی جا رہی ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہر ریسٹورنٹ کو نقصان پر کھانا بیچنا چاہیے۔ نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر دکاندار یا ہوٹل مالک ناجائز منافع خور ہے۔ بہت سے لوگ واقعی دیانت داری سے کاروبار کر رہے ہیں۔ مہنگی بجلی، مہنگی گیس، مہنگا کرایہ اور مہنگی لیبر نے ان کے اخراجات بھی بڑھا دیے ہیں۔ مگر کاروبار کی مشکلات کا سارا بوجھ گاہک کی جیب پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں۔ اگر ہر چیز مہنگی ہے تو پھر عام آدمی کی آمدنی بھی تو نہیں بڑھی۔ اس کی تنخواہ وہیں کھڑی ہے، اس کی مزدوری وہی ہے، اس کا بجٹ پہلے ہی بجلی کے بل، سکول فیس، دوائی اور راشن میں ٹوٹ چکا ہے۔ اس معاملے میں ایک متوازن نظام کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ پکے ہوئے گوشت، کڑاہی، بار بی کیو، روسٹ اور اسی نوعیت کی آئٹمز کے لیے کم از کم شفافیت لازمی قرار دے۔ ہر ہوٹل پر واضح مینو آویزاں ہو۔ اس میں یہ درج ہو کہ ایک کلو کڑاہی میں خام گوشت کی مقدار کتنی ہے، ہڈی والا گوشت ہے یا بون لیس، گریوی شامل ہے یا نہیں، ٹیکس اور سروس چارجز شامل ہیں یا الگ۔ گاہک کو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس چیز کے کتنے پیسے ادا کر رہا ہے۔ اسی طرح ضلعی سطح پر ایک مشاورتی ریٹ میکانزم بنایا جا سکتا ہے۔ ہوٹل ایسوسی ایشن، پرائس کنٹرول کمیٹی، صارف نمائندے اور انتظامیہ مل کر ایک مناسب حد مقرر کریں۔ یہ حد ایسی نہ ہو کہ کاروبار بند ہو جائے، مگر ایسی بھی نہ ہو کہ گاہک کی جیب کا بے رحمانہ امتحان لیا جائے۔ اگر روٹی اور نان کے نرخ پر بات ہو سکتی ہے تو چکن کڑاہی اور بار بی کیو پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ اگر دودھ کی قیمت پوچھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تو پکے ہوئے گوشت کی قیمت پوچھنا بھی عوامی مفاد کا حصہ ہے۔ ایک اور اہم پہلو معیار کا ہے۔ زیادہ قیمت ادا کرنے کے باوجود گاہک کو ہمیشہ معیاری گوشت، صاف ستھرا کچن، درست وزن اور صحت مند ماحول نہیں ملتا۔ کہیں باسی گوشت کا شبہ، کہیں ناقص تیل، کہیں صفائی کا فقدان، کہیں وزن میں کمی۔ یعنی قیمت مہنگی، معیار غیر یقینی۔ یہ دوہرا ظلم ہے۔ فوڈ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کو صرف بڑے ناموں یا نمائشی کارروائیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ عام بازاروں، چھوٹے ہوٹلوں، کڑاہی پوائنٹس اور بار بی کیو دکانوں کی بھی باقاعدہ نگرانی ہونی چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کھانا صرف کاروبار نہیں، معاشرتی ضرورت بھی ہے۔ ایک خاندان مہینے میں ایک بار بچوں کو باہر کھانا کھلانا چاہے تو یہ کوئی عیاشی نہیں۔ ایک مزدور، ایک کلرک، ایک استاد، ایک چھوٹا دکاندار یا ایک طالب علم بھی کبھی اچھی کڑاہی، بار بی کیو یا روسٹ کھانے کی خواہش رکھتا ہے۔ مگر جب قیمتیں اس کی پہنچ سے باہر ہو جائیں تو یہ خواہش دل ہی دل میں مر جاتی ہے۔ معاشرے کی خوبصورتی یہ ہے کہ بنیادی خوشیاں صرف امیروں تک محدود نہ رہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہوٹل مالکان بھی خود احتسابی کریں۔ مناسب منافع لیں، مگر عوامی اعتماد ضائع نہ کریں۔ مقدار واضح رکھیں، نرخ صاف لکھیں، معیار بہتر بنائیں اور گاہک کو عزت دیں۔ دوسری طرف انتظامیہ بھی اس معاملے کو معمولی نہ سمجھے۔ یہ وہی عام آدمی ہے جو ٹیکس بھی دیتا ہے، بل بھی دیتا ہے، مہنگائی بھی برداشت کرتا ہے اور پھر کبھی بچوں کی خوشی کے لیے ہوٹل کا رخ کرتا ہے۔ کم از کم وہاں اسے یہ احساس تو نہ ہو کہ اس کی جیب کو باقاعدہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مرغی کا گوشت اگر بازار میں چند سو روپے کلو ہے تو پکی ہوئی ڈش کا ریٹ یقیناً اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ مگر “زیادہ” اور “بے حساب” میں فرق ہے۔ کاروبار اور استحصال میں فرق ہے۔ منافع اور من مانی میں فرق ہے۔ یہی فرق انتظامیہ نے واضح کرنا ہے، یہی فرق ہوٹل مالکان نے سمجھنا ہے، اور یہی فرق عوام نے سوال بنا کر اٹھانا ہے۔ آج سوال صرف چکن کڑاہی کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں عام آدمی کی خوشیاں بھی کسی ریٹ لسٹ کے بغیر کیوں فروخت ہو رہی ہیں؟