سید عباس اطہر — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں معروف شاعر، صحافی، مدیر اور کالم نگار سید عباس اطہر المعروف شاہ جی کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ کے موقع پر "اِدھر ہم، اُدھر تم" جیسی مشہورِ زمانہ سرخی سے شہرت پانے والے سید عباس اطہر صحافتی و ادبی حلقوں میں محبت سے شاہ جی کہلاتے تھے۔ وہ باکمال کالم نگار، مدیر، شاعر، ادیب اور جمہوری اقدار کے علمبردار صحافی تھے۔
سید عباس اطہر 12 اپریل 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، مگر بچپن اور جوانی ساہیوال میں گزری۔ اسکول اور کالج کی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی اور دورانِ تعلیم شعر کہنا شروع کیا۔ ساہیوال کا علمی و ادبی ماحول، خصوصاً منیر نیازی، ظفر اقبال اور مجید امجد جیسے شعرا کی موجودگی، ان کی ابتدائی فکری تربیت میں اہم رہی۔
انہوں نے صحافتی کیریئر کا آغاز کراچی سے کیا۔ خبر نگاری میں انہیں کمال حاصل تھا۔ مختصر الفاظ میں بڑا مفہوم بیان کرنا اور پیچیدہ سیاسی حالات کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم بنانا ان کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ 1970ء کے عام انتخابات کے بعد روزنامہ مساوات میں شائع ہونے والی سرخی "اِدھر تم، اُدھر ہم" نے انہیں اردو صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔
عباس اطہر روزنامہ ایکسپریس میں "کنکریاں" کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ ان کے کالم طنز، سیاسی بصیرت، ادبی چاشنی اور بے باک تجزیے کا امتزاج ہوتے تھے۔ مختلف اخبارات میں اہم ذمہ داریاں نبھانے کے بعد کیریئر کے آخری دور میں روزنامہ ایکسپریس کے گروپ ایڈیٹر رہے۔ ان کی تحریروں میں جمہوریت، عوامی حقوق اور آمریت کے خلاف مزاحمت نمایاں تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں انہیں شاہی قلعہ لاہور میں قید بھی رکھا گیا، مگر قلم کی جرات کم نہ ہوئی۔
صحافت کے ساتھ وہ صاحبِ اسلوب شاعر بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں "دن چڑھے دریا چڑھے"، "آواز دے کے دیکھ لو"، "ذکر"، "کہا سنا" اور "عشق آباد" شامل ہیں۔ نثری کتاب "کہاں گئے وہ لوگ؟" منتخب کالموں اور بچھڑ جانے والی نامور شخصیات کی یادوں پر مشتمل ہے۔ حکومتِ پاکستان نے صحافت و ادب میں خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی، پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔
سید عباس اطہر طویل عرصے تک کینسر میں مبتلا رہے اور 6 مئی 2013ء کو لاہور کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال میں انتقال کرگئے۔ ساہیوال کے لیے یہ باعثِ افتخار ہے کہ اردو صحافت کا یہ بڑا نام اپنی ابتدائی اور جوانی کے اہم دور میں اسی شہر کے تعلیمی و ادبی ماحول سے وابستہ رہا۔

