ٹاپر بچوں کے پیپر پبلک کیے جائیں!

نتائج کا موسم آتا ہے تو ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی دوڑ شروع ہو جاتی ہے۔
ہر طرف نمبرز، پوزیشنز اور ٹاپرز کا تذکرہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کامیاب طلبہ کی تصاویر، مبارکبادوں کے پیغامات اور غیر معمولی نمبروں کی بھرمار ہوتی ہے۔ بلاشبہ محنت کرنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کامیابی کو صرف نمبروں تک محدود کر دیا ہے؟
آج ایک طالب علم 450 یا 460 نمبر حاصل کرنے کے باوجود خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے، کیونکہ اس کی سکرین پر کوئی دوسرا 550 سے اوپر نمبر حاصل کیے بیٹھا ہے۔
یہ مقابلہ صرف طلبہ کے درمیان نہیں رہا، اب یہ سوشل میڈیا پر بھی جاری ہے۔
ایک طرف والدین اپنے بچوں کو تسلی دیتے ہیں کہ تم نے بہت اچھا کیا، جبکہ دوسری طرف موبائل کی سکرین انہیں بار بار یہ احساس دلاتی ہے کہ شاید وہ اتنے اچھے نہیں جتنے انہیں ہونا چاہیے تھا۔
یہاں سے ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے:
آخر ٹاپ کرنے والے بچے ایسا کیا لکھتے ہیں کہ انہیں غیر معمولی نمبر ملتے ہیں؟
اگر ہمارا تعلیمی نظام واقعی میرٹ، شفافیت اور معیار پر قائم ہے تو اس سوال کا جواب چھپانے کے بجائے سامنے لانا چاہیے۔
میرے خیال میں ہر تعلیمی بورڈ کو چاہیے کہ ہر سال نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے بہترین جوابی پرچوں کو، ضروری رازداری کے ساتھ، اپنی سرکاری ویب سائٹ پر بطور نمونہ اپ لوڈ کرے۔
نام، رول نمبر اور ذاتی معلومات چھپا دی جائیں، لیکن جوابات طلبہ کے سامنے رکھے جائیں۔
تاکہ ایک طالب علم دیکھ سکے کہ بہترین جواب کیسے لکھا جاتا ہے۔ کہاں تفصیل ضروری ہے، کہاں مختصر جواب کافی ہے، سوال کو کس انداز میں سمجھ کر جواب دینا چاہیے، ڈایاگرام یا نقشہ کس طرح بنانا ہے، ریاضی کے سوال کا طریقہ کار کیسے دکھانا ہے اور آخر وہ کون سی چیز ہے جو ایک جواب کو عام جواب سے ممتاز کرتی ہے۔
یہ قدم صرف طلبہ کی رہنمائی نہیں کرے گا بلکہ مارکنگ کے معیار پر بھی اعتماد پیدا کرے گا۔
اگر کوئی طالب علم 550 نمبر حاصل کرتا ہے تو دوسروں کو یہ جاننے کا موقع ملنا چاہیے کہ اس کے جوابات میں وہ کیا خوبی تھی جس نے اسے اتنے نمبر دلائے۔ اور اگر کسی مضمون میں بہت زیادہ نمبر دینے کا کوئی خاص معیار ہے تو اسے بھی واضح ہونا چاہیے۔
ہم اکثر بچوں سے کہتے ہیں: “محنت کرو، ٹاپ کرو، اچھے نمبر حاصل کرو۔” لیکن کیا ہم انہیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ اچھا جواب لکھا کیسے جاتا ہے؟ صرف نصاب پڑھا دینا کافی نہیں، امتحان دینے کا درست طریقہ بھی سکھانا ضروری ہے۔
آج کا طالب علم معلومات کی کمی کا شکار نہیں۔ اس کے پاس کتابیں ہیں، لیکچرز ہیں، آن لائن مواد ہے، ویڈیوز ہیں اور بے شمار تعلیمی ذرائع ہیں۔ جس چیز کی کمی ہے وہ معیاری عملی مثالوں کی ہے۔ ٹاپرز کے جوابی پرچے اس کمی کو بڑی حد تک پورا کر سکتے ہیں۔
یہ اقدام ٹاپر بچوں کی عزت کم نہیں کرے گا، بلکہ ان کی محنت کو دوسرے طلبہ کے لیے ایک تعلیمی مثال بنا دے گا۔ ہمیں بچوں کو یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ دوسروں سے زیادہ نمبر لے کر ہی تم قابل ہو۔ ہمیں یہ سکھانا چاہیے کہ اپنی صلاحیت کو بہتر سے بہتر بناؤ۔
لیکن اگر امتحانی نظام میں نمبرز ہی کامیابی کا پیمانہ بن چکے ہیں تو پھر نمبرز حاصل کرنے کے طریقۂ کار میں بھی شفافیت ہونی چاہیے۔
ٹاپر بچوں کے پیپر پبلک کیے جائیں۔ یہ کسی ایک طالب علم، کسی ایک والدین یا کسی ایک سکول کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ پورے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
شاید ایک ٹاپر کا پیپر دیکھ کر ہزاروں طلبہ کو یہ سمجھ آ جائے کہ کامیابی صرف زیادہ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ صحیح انداز میں علم کو پیش کرنے کا ہنر بھی ہے۔ اور شاید پھر نتائج کا دن بچوں کے لیے نمبروں کی جنگ کے بجائے اپنی محنت کا جشن بن جائے۔
سیف اللہ مرسی
