کالم

اپنی مصنوعات سے بے وفائی کیوں؟

ChatGPT Image Sep 19, 2026, 11_15_38 AM.png

پاکستان میں کاروبار کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا۔ بجلی، گیس، ٹیکسوں، مہنگائی، غیر یقینی معاشی حالات، سرکاری ضابطوں اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ہمارے کاروباری ماحول کا ایک اور افسوس ناک پہلو بھی ہے: یہاں بعض اوقات ایک کاروباری شخص دوسرے کاروباری شخص کی ترقی کو اپنی شکست سمجھنے لگتا ہے۔ ہم اجتماعی طور پر اپنی صنعت کو مضبوط کرنے کے بجائے اکثر ایسے فیصلے کرتے ہیں جو بالآخر غیر ملکی کمپنیوں اور برانڈز کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔


چند روز قبل مجھے اسی رویّے کا ایک عملی تجربہ ہوا۔


میں ساہیوال کے ایک بڑے مال میں خریداری کر رہا تھا۔ چونکہ میں شوگر کا مریض ہوں، اس لیے عام طور پر بغیر چینی یا ڈائٹ کولڈ ڈرنک تلاش کرتا ہوں۔ ذاتی پسند کے اعتبار سے مجھے نیکسٹ کی فِز اَپ زیادہ اچھی لگتی ہے۔ یہ مشروب پہلے اس مال میں باقاعدگی اور وافر مقدار میں دستیاب ہوتا تھا، لیکن کچھ عرصے سے نظر نہیں آ رہا تھا۔


خریداری مکمل کرنے کے بعد جب میں کاؤنٹر پر بل بنوا رہا تھا تو میں نے معمول کے انداز میں پوچھ لیا: “بھائی، آپ نے نیکسٹ کولا کی مصنوعات رکھنا کیوں چھوڑ دی ہیں؟ پہلے تو یہاں کافی مقدار میں موجود ہوتی تھیں۔”


مال کے مالک نے جو جواب دیا، اس نے مجھے حیران بھی کیا اور سوچنے پر بھی مجبور کیا۔ انہوں نے کہا: “اب نیکسٹ اور کوک ہمیں تقریباً ایک ہی قیمت میں مل رہی ہیں، تو ہم نیکسٹ کیوں بیچیں؟ ہم کوک ہی بیچیں گے۔”


بظاہر یہ ایک دکان دار کا مختصر سا تجارتی فیصلہ تھا، مگر اس ایک جملے کے پیچھے ہماری پوری کاروباری اور معاشرتی نفسیات چھپی ہوئی ہے۔


سوال یہ ہے کہ اگر دو مصنوعات تقریباً ایک ہی قیمت میں مل رہی ہوں، دونوں کا معیار قابلِ قبول ہو، دونوں کے خریدار موجود ہوں، تو صرف غیر ملکی برانڈ کو ترجیح دینے کی کیا وجہ ہے؟ کیا مقامی برانڈ کو شیلف پر مناسب جگہ دینا کاروباری نقصان ہے؟ کیا صارف کو انتخاب کا حق دینا غیر ضروری ہے؟ اور کیا ایک پاکستانی کاروباری ادارے کی مصنوعات فروخت کرنے سے بالآخر پاکستان کی معیشت کو فائدہ نہیں پہنچتا؟


یقیناً ایک دکان دار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے کاروباری مفاد، فروخت، مانگ اور منافع کو دیکھتے ہوئے مصنوعات کا انتخاب کرے۔ کاروبار جذبات سے نہیں بلکہ اعداد و شمار، طلب، رسد اور منافع سے چلتا ہے۔ لیکن کاروبار صرف فوری منافع کا نام بھی نہیں۔ ایک سمجھ دار کاروباری شخص طویل مدتی مارکیٹ، صارف کے انتخاب اور مقامی معیشت کے استحکام کو بھی سامنے رکھتا ہے۔


اگر مقامی کمپنی کی مصنوعات معیار میں بہتر ہو رہی ہوں، قیمت میں مقابلہ کر رہی ہوں اور صارفین انہیں خریدنے کے لیے تیار ہوں، تو انہیں مارکیٹ سے غائب کر دینا کسی طور دانش مندی نہیں۔ اس کے برعکس مقامی مصنوعات کو جگہ دینا صحت مند مسابقت کو فروغ دیتا ہے۔ جب مارکیٹ میں مقابلہ موجود رہتا ہے تو تمام کمپنیاں معیار بہتر بنانے، قیمت مناسب رکھنے اور صارف کو بہتر سہولت دینے پر مجبور ہوتی ہیں۔


اگر مارکیٹ صرف دو یا تین بڑے بین الاقوامی برانڈز کے قبضے میں چلی جائے تو نقصان صرف مقامی کمپنی کا نہیں ہوتا؛ سب سے بڑا نقصان صارف کا ہوتا ہے۔ پھر قیمت، معیار اور دستیابی کے فیصلے چند بڑی کمپنیوں کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔


ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مقامی مصنوعات کی حمایت کسی غیر ملکی ملک، قوم، مذہب یا فرد سے دشمنی کا نام نہیں۔ یہ خالصتاً معاشی خود انحصاری کا معاملہ ہے۔ ہمیں کسی بھی کمپنی یا برانڈ کے بارے میں جذباتی، مذہبی یا غیر مصدقہ دعوے کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ مصنوعات کہاں تیار ہو رہی ہیں، اس میں مقامی سرمایہ اور افرادی قوت کتنی شامل ہے، کتنے پاکستانیوں کو روزگار مل رہا ہے، کتنا ٹیکس قومی خزانے میں جا رہا ہے اور اس کاروبار کا فائدہ کس حد تک ملکی معیشت میں واپس آ رہا ہے۔


پاکستانی مصنوعات خریدنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مقامی چیز کو آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جائے۔ مقامی کمپنیوں کو بھی صرف حب الوطنی کے نام پر رعایت نہیں ملنی چاہیے۔ انہیں معیار، قیمت، صفائی، پیکنگ، ذائقے، صارفین کی صحت، شکایات کے ازالے اور خدمات کے میدان میں خود کو ثابت کرنا ہوگا۔ صارف کا اعتماد نعرے سے نہیں بلکہ مسلسل اچھے معیار سے حاصل ہوتا ہے۔


خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان کی کئی مقامی کمپنیوں نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے معیار کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔ مشروبات کے شعبے میں نیکسٹ اور گورمے سمیت مختلف پاکستانی برانڈز اب بڑے بین الاقوامی برانڈز کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ذائقے کا فیصلہ یقیناً ہر شخص کی ذاتی پسند پر منحصر ہے، لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مقامی کمپنیوں نے معیار اور تنوع کے میدان میں خاصی پیش رفت کی ہے۔


میری اپنی پسند کے مطابق نیکسٹ کی بعض مصنوعات مجھے زیادہ بہتر محسوس ہوتی ہیں، مگر اصل مسئلہ کسی ایک برانڈ کی تشہیر نہیں۔ اصل مسئلہ انتخاب، انصاف اور کاروباری سوچ کا ہے۔ ایک بڑے مال میں مختلف کمپنیوں کی مصنوعات موجود ہونی چاہییں تاکہ صارف اپنی پسند، ضرورت، بجٹ اور صحت کے مطابق فیصلہ کر سکے۔


ہم اکثر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقامی صنعت کو تحفظ دے، درآمدات کم کرے، روزگار پیدا کرے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنائے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک عام صارف اور دکان دار کی حیثیت سے ہماری اپنی ذمہ داری کیا ہے؟


جب ہم پاکستانی مصنوعات کو دیکھے اور آزمائے بغیر کمتر قرار دیتے ہیں، جب دکان دار صرف نام کی بنیاد پر غیر ملکی برانڈ کو ترجیح دیتا ہے، جب ہم مقامی کمپنی کی معمولی غلطی کو ناقابلِ معافی سمجھتے ہیں لیکن غیر ملکی برانڈ کی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، تو پھر ملکی صنعت کس طرح ترقی کرے گی؟


مقامی صنعت کوئی خیالی تصور نہیں۔ اس کے پیچھے پاکستانی مزدور، سیلز مین، ڈرائیور، دکان دار، انجینئر، اکاؤنٹنٹ، مارکیٹنگ سے وابستہ نوجوان اور ہزاروں خاندان ہوتے ہیں۔ جب کسی پاکستانی کمپنی کی فروخت بڑھتی ہے تو اس کے ساتھ روزگار کے امکانات، سرمایہ کاری، پیداوار اور ٹیکس آمدن میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔


البتہ کمپنیوں کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔ انہیں دکان دار کو مناسب منافع، بروقت سپلائی، بہتر فریج اور ڈسپلے سہولت، مؤثر مارکیٹنگ اور صارف کو مستقل معیار فراہم کرنا ہوگا۔ اگر کسی مقامی کمپنی کا ریٹ بین الاقوامی برانڈ کے برابر ہو گیا ہے تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ اس قیمت کے بدلے صارف اور ریٹیلر کو کیا اضافی فائدہ مل رہا ہے۔ صرف “پاکستانی برانڈ” ہونے کی بنیاد پر کاروبار ہمیشہ نہیں چل سکتا۔ وطن دوستی دروازہ کھول سکتی ہے، لیکن معیار ہی گاہک کو دوبارہ واپس لاتا ہے۔


اسی طرح دکان دار کو بھی صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون سا نام زیادہ مشہور ہے۔ اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے صارف کیا چاہتے ہیں۔ اگر دس، بیس یا پچاس لوگ کسی مخصوص پاکستانی مشروب کا مطالبہ کر رہے ہوں تو اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے محدود مقدار میں رکھا جا سکتا ہے۔ فروخت کے اعداد و شمار دیکھے جا سکتے ہیں۔ صارفین سے رائے لی جا سکتی ہے۔ شیلف پر مناسب جگہ دے کر چند ہفتوں کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔


کاروباری دنیا میں سب سے کامیاب وہ شخص ہوتا ہے جو صارف کی ضرورت کو سمجھے، نہ کہ وہ جو اپنی پسند صارف پر مسلط کرے۔


ہماری قومی کمزوری شاید یہ ہے کہ ہمیں باہر سے آنے والا نام فوری طور پر معتبر محسوس ہوتا ہے، جبکہ اپنے ملک میں بننے والی چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی احساسِ کمتری ہماری صنعت، ادب، ثقافت، تعلیم اور کاروبار میں بار بار سامنے آتا ہے۔ ہم غیر ملکی چیز مہنگی ہونے کے باوجود فخر سے خریدتے ہیں، لیکن پاکستانی مصنوعات سے غیر معمولی کم قیمت اور غیر معمولی بلند معیار کا مطالبہ کرتے ہیں۔


یہ رویّہ بدلنا ہوگا۔


ہمیں مقامی مصنوعات کو اندھی حمایت نہیں بلکہ منصفانہ موقع دینا چاہیے۔ انہیں خریدنے سے پہلے معیار دیکھنا چاہیے، استعمال کے بعد دیانت داری سے رائے دینی چاہیے اور خامی کی صورت میں کمپنی کو اصلاح کا موقع دینا چاہیے۔ اسی طرح مقامی کمپنیوں کو بھی صارف کو محض جذباتی نعروں کے ذریعے متوجہ کرنے کے بجائے عالمی معیار کی مصنوعات فراہم کرنی چاہییں۔


پاکستان کی معاشی آزادی صرف حکومتی پالیسیوں سے ممکن نہیں ہوگی۔ اس کے لیے صنعت کار، دکان دار اور صارف تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صنعت کار معیار بہتر کرے۔ دکان دار صارف کو مکمل انتخاب دے۔ اور صارف اچھی پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دینے میں جھجک محسوس نہ کرے۔


ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر وقت دوسروں کی مصنوعات، ٹیکنالوجی اور برانڈز کے محتاج رہنا چاہتے ہیں یا اپنے کاروبار، اپنی صنعت اور اپنے لوگوں کو آگے بڑھانے کے لیے حقیقی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔


یہ ضروری نہیں کہ ہر پاکستانی مصنوعات بہترین ہو، لیکن جو پاکستانی مصنوعات معیار میں مقابلہ کر رہی ہے، اسے صرف اس لیے نظر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے نام کے ساتھ کوئی غیر ملکی شناخت منسلک نہیں۔


قومیں صرف نعروں سے خودکفیل نہیں ہوتیں۔ قومیں اپنے فیصلوں، خریداری کی ترجیحات، کاروباری اخلاق اور مقامی صنعت پر اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔


سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر پاکستانی دکان دار ہی پاکستانی مصنوعات کو جگہ نہیں دے گا، پاکستانی صارف ہی اسے آزمانے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور پاکستانی کاروباری ہی دوسرے پاکستانی کاروبار کو آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکے گا، تو پھر ملکی صنعت کو سہارا کون دے گا؟


سیف بے نیام