پارکنگ اسٹینڈ یا عوام کی جیب کاٹنے کا اڈا؟

ساہیوال میں اگر آج عام آدمی سے پوچھا جائے کہ اسے سرکاری جگہوں پر سب سے زیادہ ذلت کہاں محسوس ہوتی ہے تو شاید وہ ہسپتال، کچہری اور ان کے پارکنگ اسٹینڈز کا نام لے گا۔ آدمی پہلے ہی کسی مجبوری میں گھر سے نکلتا ہے۔ کوئی مریض لے کر ہسپتال آتا ہے، کوئی کچہری میں تاریخ بھگتنے آتا ہے، کوئی ضروری کاغذات کے لیے دھکے کھاتا ہے۔ اوپر سے دروازے پر پارکنگ والے اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھتے ہیں جیسے شہری نہیں، کوئی بے بس شکار ان کے ہاتھ لگ گیا ہو۔
ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال کی پارکنگ کا معاملہ دن بدن عوام کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ آنے والے لواحقین کو بار بار اندر باہر جانا پڑتا ہے۔ کبھی دوا لینے، کبھی ٹیسٹ کروانے، کبھی گھر سے کوئی چیز لانے، کبھی ڈاکٹر کے کہنے پر باہر جانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن ہر بار پارکنگ والے ایک نئی پرچی، ایک نیا مطالبہ اور ایک نیا لہجہ لے کر کھڑے ہوتے ہیں۔
عوامی شکایات یہ ہیں کہ کہیں دس کے بیس لیے جاتے ہیں، کہیں بیس کے تیس، اور کہیں موٹر سائیکل کھڑی کرنے پر بھی ایسا رویہ رکھا جاتا ہے جیسے کوئی بہت بڑا احسان کیا جا رہا ہو۔ بات صرف تیس چالیس روپے کی نہیں ہے۔ بات اس بدتمیزی کی ہے، اس من مانی کی ہے، اس بے حسی کی ہے جو ایک مجبور آدمی کو روز برداشت کرنی پڑتی ہے۔
ایک غریب آدمی اپنے مریض کو لے کر ہسپتال آتا ہے۔ اس کے ذہن میں پہلے ہی سو پریشانیاں ہوتی ہیں۔ دوا کے پیسے، ٹیسٹ کے پیسے، ڈاکٹر کی بات، مریض کی حالت، گھر والوں کی فکر۔ ایسے میں اگر اسے گیٹ پر ہی پارکنگ مافیا کے ہاتھوں ذلیل ہونا پڑے تو یہ صرف زیادتی نہیں، ظلم ہے۔
یہی حال ضلع کچہری ساہیوال کے پارکنگ اسٹینڈ کا بھی بتایا جاتا ہے۔ کچہری میں کون خوشی سے آتا ہے؟ کوئی مقدمے میں پھنسا ہوتا ہے، کوئی کاغذ کے لیے پریشان ہوتا ہے، کوئی وکیل کے چکر لگا رہا ہوتا ہے، کوئی سرکاری دفتر میں دھکے کھا رہا ہوتا ہے۔ اس پریشان آدمی سے بھی پارکنگ کے نام پر من مانی وصولی کی جائے تو پھر عام شہری کہاں جائے؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر پارکنگ فیس مقرر ہے تو وہ واضح طور پر لکھی کیوں نہیں جاتی؟ ہر پارکنگ اسٹینڈ پر بڑا بورڈ کیوں نہیں لگایا جاتا کہ موٹر سائیکل کی فیس کتنی ہے، گاڑی کی فیس کتنی ہے، کتنے وقت کے لیے ہے، اور اگر کوئی زائد رقم مانگے تو شہری کس نمبر پر شکایت کرے؟
اگر ٹھیکہ دیا گیا ہے تو ٹھیکیدار کی حدود بھی طے ہونی چاہییں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سرکاری جگہ پر کوئی شخص اپنی مرضی کا بادشاہ بن کر بیٹھ جائے اور عوام کو جیسے چاہے ڈیل کرے۔ پارکنگ عوام کی سہولت کے لیے ہوتی ہے، عوام کو نچوڑنے کے لیے نہیں۔
ڈی سی ساہیوال جناب کیپٹن ریٹائرڈ سمیع اللہ فاروق صاحب سے گزارش ہے کہ اس معاملے پر فوری نوٹس لیا جائے۔ ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال اور ضلع کچہری کے پارکنگ اسٹینڈز کی باقاعدہ چیکنگ ہونی چاہیے۔ ایک کمیٹی بنائی جائے جو روزانہ کی بنیاد پر ان پارکنگ اسٹینڈز کا جائزہ لے۔ ریٹ لسٹ آویزاں ہو، پرچی پر رقم لکھی ہو، ٹھیکیدار کا نام درج ہو، اور عوام کے لیے شکایت نمبر واضح طور پر موجود ہو۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہسپتال آنے والے مریضوں کے لواحقین کے لیے الگ سہولت رکھی جائے۔ اگر ایک ہی مریض کے گھر والے بار بار آ جا رہے ہیں تو کم از کم چند گھنٹوں کے لیے ایک ہی پرچی قابلِ قبول ہونی چاہیے۔ یہ کون سی منطق ہے کہ مریض ایک ہو، پریشانی ایک ہو، لیکن پارکنگ فیس بار بار لی جائے؟
اسی طرح کچہری کے پارکنگ اسٹینڈ پر بھی فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔ وہاں روزانہ سینکڑوں لوگ آتے ہیں۔ اگر ہر شخص سے چند روپے اضافی لیے جا رہے ہیں تو یہ معمولی بات نہیں، روزانہ کی بنیاد پر ایک بڑی رقم بنتی ہے۔ یہ عوام کی جیب سے نکلنے والا وہ پیسہ ہے جس کا کوئی حساب نہیں، کوئی جواب نہیں۔
ساہیوال کے شہری کوئی بہت بڑی رعایت نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ جو فیس مقرر ہے وہی لی جائے، بدتمیزی نہ کی جائے، من مانی نہ ہو، اور سرکاری جگہوں پر عوام کو مافیا کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
ڈی سی صاحب اگر اس مسئلے پر سخت ایکشن لیتے ہیں تو عام شہری کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔ کبھی کبھی بڑے بڑے منصوبوں سے زیادہ چھوٹی چھوٹی اصلاحات عوام کے دل جیت لیتی ہیں۔ پارکنگ اسٹینڈز پر شفاف نظام بنا دیا جائے تو روزانہ ہزاروں شہریوں کی ایک بڑی تکلیف کم ہو سکتی ہے۔
ساہیوال میں یہ تاثر ختم ہونا چاہیے کہ جس جگہ شہری مجبور ہو کر جائے، وہاں کوئی نہ کوئی اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانے بیٹھا ہو۔ ہسپتال ہو یا کچہری، یہ عوامی مقامات ہیں۔ یہاں عزت، سہولت اور قانون ہونا چاہیے، مافیا نہیں۔
سیفِ بے نیام آج صرف اتنا پوچھتا ہے:
کیا ساہیوال کے پارکنگ اسٹینڈ عوامی سہولت ہیں یا عوام کی جیب کاٹنے کا اڈا؟
اور کیا ضلعی انتظامیہ اس خاموش لوٹ مار پر خاموش رہے گی یا عام آدمی کے حق میں کھڑی ہو گی؟
سیف بے نیام
