کالم

حافظ نعیم اور سوئی ہوئی قوم

ChatGPT Image Sep 19, 2026, 11_15_38 AM.png

میں جمعرات کو عموماً کالم لکھتا ہوں، لیکن کچھ مصروفیات کے باعث کل نہیں لکھ سکا، اس لیے آج جمعہ کو حاضرِ خدمت ہوں۔


آج جماعتِ اسلامی قومی سطح پر لیوی کے خلاف احتجاج کرنے جا رہی ہے۔ سڑکیں بند ہوں گی، کارکن نکلیں گے، پولیس بھی تیار بیٹھی ہے۔ گرفتاریاں بھی ہوں گی، مقدمے بھی بن سکتے ہیں اور حسبِ روایت شام تک ہر فریق اپنی اپنی کامیابی کا اعلان بھی کر دے گا۔


مجھے نہیں پتا یہ سب کس کے اشارے پر ہو رہا ہے، کون اس کے پیچھے ہے اور سیاست کی بساط پر کون کس کی چال چل رہا ہے۔ ہمارے ہاں تو ویسے بھی ہر کام کے پیچھے کوئی نہ کوئی تلاش کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ایک بات حافظ نعیم کے حق میں ضرور کہوں گا۔ اس بندے نے کم از کم عوام کے اصل درد پر ہاتھ رکھا ہے۔


آئی پی پیز کا معاملہ ہو یا اب پیٹرول میں ہونے والی قانونی بدمعاشی، حافظ نعیم نے اسے سرِعام ننگا کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنہیں ننگا کیا جا رہا ہے انہیں شاید اب ننگا ہونے سے بھی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ فرق پڑنے کے لیے احساس کا ہونا ضروری ہے۔ اور ہمارے سسٹم سے شاید احساس بہت پہلے مر چکا ہے۔


کل میٹرک کا رزلٹ آیا۔ سوشل میڈیا کھولا تو کہیں بچے مٹھائیاں تقسیم کر رہے تھے، کہیں والدین اپنے بچوں کی کامیابی پر خوش تھے، کہیں سکول اپنے ٹاپرز کی تصویریں لگا رہے تھے۔ بہت ساری کامیابیاں نظر سے گزریں۔ پھر انہی کامیابیوں کے درمیان خوف میں لپٹی ایک خبر سامنے آ گئی۔ کم نمبروں کے خوف نے ایک بچے کی زندگی چھین لی۔ ایک طرف نمبروں کی لسٹیں تھیں، دوسری طرف ایک گھر کا چراغ بجھ چکا تھا۔


میں اس واقعے کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ یہ ہمارے سسٹم کے منہ پر پڑنے والا ایک زوردار طمانچہ ہے۔ اس طمانچے کی گونج مجھ جیسا عام بندہ تو سن لیتا ہے، لیکن سسٹم بنانے والوں کی سننے والی ڈیوائس شاید انہوں نے اتار کر کہیں رکھ دی ہے۔ وہ بہرے بھی ہیں، گونگے بھی، اور شاید آنکھیں ہونے کے باوجود اندھے بھی۔


انہیں فرق نہیں پڑتا کہ کون کیسے مر گیا، کس باپ کی کمر ٹوٹ گئی، کس ماں کی دنیا اجڑ گئی، کس غریب کے گھر کا چولہا بند ہو گیا اور کس نوجوان کے خواب کسی فائل، کسی پالیسی، کسی فیس، کسی بل یا چند نمبروں کے نیچے دب گئے۔ سسٹم چلنا چاہیے۔ بس یہی اصول ہے۔ لوگ رہیں یا نہ رہیں، سسٹم چلتا رہنا چاہیے۔


اور مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ آج اس سسٹم کی بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، جس دن وہ خود دنیا سے چلے جائیں گے، اگلے ہی دن کوئی دوسرا انہی کی کرسی پر براجمان ہوگا۔ وہی میز ہوگی، وہی فائلیں ہوں گی، وہی مہر ہوگی اور اندھیر نگری اسی رفتار سے چلتی رہے گی۔


یہاں دو ہزار روپے کا چالان جمع نہ ہونے پر ایک رکشہ ڈرائیور اس حد تک بے بس ہو جاتا ہے کہ اپنے ہی روزگار کو آگ لگا دیتا ہے۔ سوچیں! وہ رکشہ جس سے اس کے گھر کا چولہا جلتا ہوگا، جس سے بچوں کی فیس جاتی ہوگی، جس سے آٹا آتا ہوگا، اسی رکشے سے وہ اپنی بے بسی بیان کرنے لگتا ہے۔ لیکن سسٹم؟ سسٹم پھر بھی چلتا رہتا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔


پیٹرول مہنگا ہو، بجلی کا بل گھر کے بجٹ سے بڑا ہو جائے، بچوں کی فیس دینا مشکل ہو، رکشے والے کا چالان ہو، مزدور کی دیہاڑی ختم ہو یا کسی طالب علم کے لیے نمبروں کا خوف زندگی سے بڑا بنا دیا جائے۔ سسٹم کے پاس ہر چیز کا ایک فارم ہے، ہر مسئلے کا ایک نوٹیفکیشن ہے، ہر سوال کا ایک سرکاری جواب ہے۔ بس انسان کے درد کے لیے شاید کوئی خانہ نہیں رکھا گیا۔


ایسے میں میں حافظ نعیم کو سنتا رہتا ہوں۔ وہ چیخ چیخ کر اس قوم کو اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کبھی بجلی کے بل پر، کبھی آئی پی پیز پر، کبھی پیٹرول پر، کبھی ٹیکس پر۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ قوم اٹھنا چاہے تو کوئی اسے اٹھائے۔ یہ قوم تو شاید اپنے کانوں میں ہیڈفون لگائے تان سین سننے میں مصروف ہے۔


مہنگائی بڑھتی ہے، ہم دو دن شور کرتے ہیں۔ بجلی مہنگی ہوتی ہے، بل کی تصویر فیس بک پر لگا دیتے ہیں۔ پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، دو چار میمز بنا لیتے ہیں۔ ٹیکس لگتا ہے، حکومت کو دو چار گالیاں دے کر دل ہلکا کر لیتے ہیں۔ اور اگلی صبح پھر اسی لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔


میں حافظ صاحب سے بھی کہنا چاہتا ہوں: حافظ صاحب! کس قوم کو اٹھانے کی کوشش کر رہے ہو؟ یہ قوم تو شاید اتنی عادی ہو چکی ہے کہ اب اس کی درخواست صرف اتنی رہ گئی ہے: “صاحبو! جوتے بے شک دس مار لو، لیکن پلیز مارنے والے بندے زیادہ کر دو، انتظار میں ہمارا ٹائم بہت ضائع ہوتا ہے۔”


تلخ بات ہے۔ لیکن کبھی کبھی مجھے واقعی ایسا ہی لگتا ہے۔ آج احتجاج کی کال ہے۔ پولیس جماعتِ اسلامی کے لوگوں کے پیچھے ہے اور جماعتِ اسلامی کے لوگ اس قوم کے پیچھے ہیں۔ کوئی گرفتار ہونے سے بچ رہا ہے، کوئی لوگوں کو گھروں سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اور عوام شاید بیٹھے یہ دیکھ رہے ہیں کہ آج سڑک کس وقت بند ہوگی اور ہمیں متبادل راستہ کون سا لینا چاہیے۔


مجھے نہیں پتا سڑکیں بند کرنے سے کیا ہوگا۔ لیوی ختم ہوگی یا نہیں۔ پیٹرول سستا ہوگا یا نہیں۔ حکمرانوں پر کوئی اثر پڑے گا یا نہیں۔ اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس احتجاج کے بعد اگلی صبح واقعی کچھ بدلے گا یا زندگی پھر وہیں سے شروع ہو جائے گی جہاں آج رکی تھی۔


لیکن ایک بات ضرور ہوگی۔ جب کبھی تاریخ یہ سوال کرے گی کہ جب لوگوں پر بوجھ بڑھایا جا رہا تھا، جب عوام مہنگائی کے نیچے دب رہے تھے، جب ہر نیا دن ایک نیا ٹیکس، نیا بل اور نئی پریشانی لے کر آ رہا تھا تو اس وقت کون بولا تھا؟ تو کم از کم کچھ لوگ یہ کہہ سکیں گے: ہم بولے تھے۔ ہم نکلے تھے۔ ہم نے آواز اٹھائی تھی۔ ہم کامیاب ہوئے یا ناکام، یہ الگ بحث ہے۔ مگر شاید حق تو ادا ہو جائے گا۔


سیف اللہ مُرسی