لوڈشیڈنگ: بجلی بند نہیں، زندگی بند ہے

صبح سویرے حسین بھائی سے ملاقات ہوئی۔ چہرہ تھکا ہوا، آنکھیں سوجی ہوئی اور لہجے میں وہ بے بسی تھی جو صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو رات بھر جاگنے کے بعد صبح روزی کمانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے۔
میں نے پوچھا، “حسین بھائی! خیریت تو ہے؟ آنکھیں کیوں سوجی ہوئی ہیں، یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟”
وہ کچھ لمحے خاموش رہے، پھر بولے: “بھائی! کیا بتاؤں؟ ایک کمرے کے گھر میں بندہ کیا گزارا کرے؟ نیا گھر ڈھونڈ رہا ہوں، لیکن گھر مل نہیں رہا۔ اوپر سے لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔”
حسین بھائی ڈھائی مرلے کے ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں رہتے ہیں۔ گھر سنگل سٹوری ہے، مکمل چھتا ہوا ہے، وینٹیلیشن کا کوئی مناسب انتظام نہیں۔ چار بچے ہیں، کرایہ اٹھارہ ہزار روپے ہے اور گھر میں گنجائش اتنی کہ پورا خاندان ایک ہی کمرے میں سونے پر مجبور ہے۔
لیکن اصل مسئلہ صرف گھر کا چھوٹا ہونا نہیں۔ اصل مسئلہ وہ راتیں ہیں جو بجلی کے انتظار میں گزرتی ہیں۔
حسین بھائی بتاتے ہیں کہ ساری رات بجلی نہیں آتی۔ سرکاری شیڈول اپنی جگہ، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اپنی جگہ۔ رات گرمی، حبس اور گھٹن میں گزر جاتی ہے۔ بچے بے چین، والدین پریشان اور صبح ہونے تک آنکھوں میں نیند کے بجائے تھکن جمع ہو جاتی ہے۔
اور پھر صبح زندگی کسی رعایت کے بغیر دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ بچوں کو سکول کے لیے تیار کرنا ہے، بیگم نے گھر کے کام نمٹانے ہیں، حسین بھائی نے روزگار کے لیے وقت پر کام پر پہنچنا ہے۔
سوچیے، جو شخص رات بھر سو نہ سکا ہو، وہ صبح کس ذہنی اور جسمانی کیفیت میں مزدوری یا ملازمت کرنے نکلتا ہوگا؟
یہ صرف حسین بھائی کی کہانی نہیں۔ ہمارے شہروں اور دیہات میں ایسے ہزاروں، بلکہ لاکھوں خاندان ہیں جو گرمی، مہنگائی، تنگ گھروں اور بجلی کی غیر یقینی صورتحال کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں۔
ہم اکثر بجلی کے بل کو صرف ایک کاغذ سمجھتے ہیں، لیکن اس بل کے پیچھے ایک غریب آدمی کی پوری زندگی چھپی ہوتی ہے۔ وہ بل ادا کرتا ہے تاکہ اس کے بچے پنکھے کے نیچے سو سکیں، تاکہ گھر میں کچھ سکون ہو، تاکہ صبح وہ تازہ دم ہو کر روزگار کے لیے نکل سکے۔ مگر جب بل بھی آئے، بجلی بھی مہنگی ہو اور بجلی دستیاب بھی نہ ہو تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی آخر کس چیز کی قیمت ادا کر رہا ہے؟
لوڈشیڈنگ صرف بجلی کی بندش نہیں۔ یہ بچوں کی نیند چھینتی ہے، یہ والدین کا سکون چھینتی ہے، یہ بیمار اور بزرگوں کی مشکلات بڑھاتی ہے، یہ مزدور کی اگلی صبح کی کارکردگی متاثر کرتی ہے، یہ گھریلو خواتین کی ذمہ داریاں مشکل بناتی ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ انسان کے اندر سے برداشت کی آخری حد بھی چھین لیتی ہے۔
حسین بھائی کی سوجی ہوئی آنکھیں میرے لیے صرف ایک شخص کی تھکن نہیں تھیں۔ وہ ہمارے بجلی کے نظام، ہماری ترجیحات اور عام آدمی کی مشکلات کا ایک خاموش سوال تھیں۔
ہم کب یہ سمجھیں گے کہ بجلی صرف پنکھا چلانے کا نام نہیں؟ بجلی کا مطلب ہے ایک بچے کی پُرسکون نیند۔ بجلی کا مطلب ہے ایک ماں کا اطمینان۔ بجلی کا مطلب ہے ایک باپ کا صبح تازہ دم ہو کر روزگار کے لیے نکلنا۔ اور بجلی کا مطلب ہے ایک گھر میں زندگی کا معمول کے مطابق چلتے رہنا۔
اگر ایک غریب خاندان اٹھارہ ہزار روپے کرایہ دے کر ڈھائی مرلے کے گھر میں چار بچوں سمیت گزارا کر رہا ہے تو کم از کم اسے رات کو سکون سے سونے کا حق تو دیا جائے۔
لوڈشیڈنگ کے اوقات کاغذ پر طے کرنا آسان ہے، مگر ان اوقات میں زندگی گزارنا حسین بھائی جیسے لوگوں سے پوچھیں۔
یہ صرف بجلی کا بحران نہیں، یہ عام آدمی کی زندگی کا بحران ہے۔ اور شاید ہمیں بجلی کے کھمبوں سے زیادہ ان سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھنے کی ضرورت ہے، جن میں نیند نہیں بلکہ سوال جمع ہو چکے ہیں۔
سیف بے نیام
