کالم

بابا! مجھے جوتا لے دیں — عام آدمی کی قوتِ خرید کا بحران

ChatGPT Image Sep 19, 2026, 11_15_38 AM.png

ایک چھوٹا سا واقعہ ہوا، مگر اس نے بہت بڑے سوالات میرے ذہن میں کھڑے کر دیے۔


میرے بیٹا گزشتہ چند دنوں سے روزانہ ایک ہی بات کہہ رہا تھا: “بابا! مجھے جوتا لے دیں۔”


وہ اکیڈمی جاتے ہوئے اپنے جوتوں کو دیکھتا، پھر میری طرف دیکھ کر یہی کہتا کہ اچھا نہیں لگتا۔ حالانکہ اسے ایک ماہ پہلے ہی نیا جوتا لے کر دیا تھا، لیکن بچوں کی چیزیں جلدی خراب بھی ہو جاتی ہیں اور ان کی ضرورتیں بھی بدلتی رہتی ہیں۔


میں ہر روز اسے یہی کہتا رہا کہ “بیٹا، آج شام کو لے دوں گا۔” لیکن کبھی ہسپتال کے چکر، کبھی بنو قابل کی مصروفیات، کبھی دوسرے ضروری کام... وقت ہی نہیں نکل سکا۔


آخرکار آج فرصت ملی تو میں اپنی اہلیہ کے ساتھ بازار چلا گیا۔


بازار میں داخل ہوا تو ہر دکان پر ایک ہی منظر تھا: “70% OFF”، “50% SALE”، “40% DISCOUNT”۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر چیز آدھی قیمت پر مل رہی ہو۔


لیکن جب جوتے دیکھنے شروع کیے تو حیرت ہوئی۔ ایک عام سا جوتا، جو نہ کسی مشہور برانڈ کا تھا اور نہ ہی کوئی خاص ڈیزائن رکھتا تھا، چار ہزار سے پانچ ہزار روپے سے کم کا نہیں تھا۔ یہ بھی “سیل” کے بعد کی قیمت تھی۔ یعنی اصل قیمت دس یا بارہ ہزار روپے لکھی ہوئی تھی۔


میں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ میرے ذہن میں صرف ایک سوال تھا: اگر سیل کے بعد بھی ایک عام جوتا پانچ ہزار کا ہے تو وہ مزدور کیا کرے گا جس کی روزانہ کی آمدنی ہی پندرہ سو یا دو ہزار روپے ہے؟ وہ سرکاری ملازم کیا کرے گا جس کی تنخواہ مہینے کے بیس دن بھی پورے نہیں کرتی؟ وہ باپ کیا کرے گا جس کے دو یا تین بچے سکول جاتے ہیں؟


بات صرف جوتے کی نہیں۔ کپڑوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ گروسری لینے جائیں تو ہر ہفتے بل پہلے سے زیادہ بنتا ہے۔ بچوں کی کتابیں، یونیفارم، بجلی، گیس، پٹرول... ہر چیز عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ دکانوں پر سیل تو بہت نظر آتی ہے، لیکن اصل میں رعایت کم اور قیمتوں کا کھیل زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اصل قیمت اتنی بڑھا دی جاتی ہے کہ پچاس فیصد رعایت کے بعد بھی چیز عام آدمی کی استطاعت سے باہر رہتی ہے۔


یہ صرف مہنگائی کا مسئلہ نہیں، بلکہ قوتِ خرید کے مسلسل ختم ہونے کی کہانی ہے۔ جب ایک باپ بازار جانے سے پہلے دس بار سوچے، جب بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرنا مشکل لگنے لگیں، جب گھر کا بجٹ ہر مہینے نئے سرے سے ٹوٹنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں، نظام کا بھی ہے۔


حکمران جب اعداد و شمار میں ترقی دکھاتے ہیں تو شاید انہیں بازاروں میں گھومتے ہوئے وہ باپ نظر نہیں آتے جو ہر چیز اٹھا کر قیمت دیکھتا ہے، پھر خاموشی سے واپس رکھ دیتا ہے۔ ترقی صرف رپورٹوں میں نہیں، بازاروں میں بھی نظر آنی چاہیے۔


لوگوں کی جیبیں خالی ہوں اور دکانوں پر “سیل” کے بڑے بڑے بورڈ لگے ہوں تو یہ رعایت نہیں، ایک تلخ مذاق محسوس ہوتا ہے۔ عام آدمی کو خیرات نہیں چاہیے، صرف اتنی معاشی آسانی چاہیے کہ وہ عزت کے ساتھ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکے۔


سیف بے نیام