راغب علی سید — شانِ ساہیوال

ساہیوال کی صحافتی، ادبی اور سماجی تاریخ پر نظر ڈالیں تو کئی ایسے نام سامنے آتے ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں شہر کی آواز بن کر اپنا کردار ادا کیا۔ راغب علی سید بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں۔ ان کی شناخت صرف ایک صحافی کی نہیں بلکہ ساہیوال کی صحافتی برادری، ادبی حلقوں اور سماجی و سیاسی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے۔
راغب علی سید نے ایک ایسے دور میں صحافت کی جب مقامی صحافت کا بڑا انحصار اخبارات پر تھا اور کسی شہر کے مسائل، سیاسی سرگرمیوں اور عوامی معاملات کو سامنے لانے میں مقامی صحافیوں کا کردار نہایت اہم سمجھا جاتا تھا۔ وہ صرف خبریں جمع کرنے اور شائع کرانے تک محدود نہیں رہے بلکہ صحافی برادری کے اجتماعی معاملات میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے۔
راغب علی سید ساہیوال پریس کلب کے سیکرٹری جنرل بھی رہے. وہ ساہیوال کی صحافتی تنظیم اور پریس کلب کے معاملات میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔۔
راغب علی سید کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی ادبی وابستگی ہے۔ ساہیوال کی ادبی تاریخ کے حوالے سے مرتب کیے گئے بعض مضامین اور فہرستوں میں بھی ان کا نام شہر سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور قلم کاروں کے ساتھ ملتا ہے۔
ان کی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو عملی سیاست میں شرکت بھی ہے۔ 1997ء کے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں راغب علی سید نے ساہیوال کے حلقہ PP-181 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا۔ وہ کامیاب تو نہ ہو سکے، لیکن انتخابی سیاست میں قدم رکھنا اس بات کی علامت ہے کہ ان کی دلچسپی صرف صحافت یا ادبی سرگرمیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ اپنے شہر کے عوامی اور سیاسی معاملات میں بھی براہِ راست کردار ادا کرنے کے خواہش مند تھے۔
راغب علی سید کی صحافتی زندگی کو آج کے دور میں دیکھیں تو ایک دلچسپ منظر سامنے آتا ہے۔ ان کی صحافت کا زمانہ وہ تھا جب خبر اخبار کے صفحات تک پہنچنے کے لیے ایک طویل عمل سے گزرتی تھی۔
راغب سید کے پاس ساہیوال کے کئی ادوار کی وہ یادیں اور مشاہدات موجود تھے جو سرکاری فائلوں یا اخباری تراشوں میں مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ سکتے۔
راغب علی سید نے شہر کے مسائل کو محسوس کیا، قلم اٹھایا اور اپنے اپنے انداز میں اسے دوسروں تک پہنچایا۔ ان کی صحافتی اور سماجی زندگی ساہیوال کے اس دور کی یاد دلاتی ہے جب مقامی صحافت شہر کے حالات جاننے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کا ایک اہم ذریعہ تھی۔ آخر میں ان کے کیے فقط اتنا ہی کہ وہ واقعی شانِ ساہیوال تھے۔


