رائے احمد خان کھرل شہید — شانِ ساہیوال

پنجاب کے شیر دل مجاہد رائے احمد خان کھرل شہید کا نام آج بچہ بچہ جانتا ہے ۔بہادری اور شجاعت کا ایسا نام جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی۔انہیں کھرل قبیلے کے سربراہ، نوابِ جھامرہ اور پنجاب کا راٹھ جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی جدوجہد کا مرکز سابقہ ضلع گوگیرہ (موجودہ ساہیوال ،اوکاڑہ) کے علاقے جھامرہ،سیدوالا، گشکوری کے جنگلات، دریائے راوی کے اطراف اور پنجاب کے بار کے علاقے تھے۔انگریز سرکار کی جانب سے منٹگمری ضلع کی نئی تشکیل کے دوران چک جھامرہ کو تاندلیانوالہ فیصل آباد کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔ رائے احمد خان کھرل کی برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی ایک اہم تاریخی باب ہے۔ ان کے بارے میں تاریخی کتب، برطانوی سرکاری ریکارڈ اور پنجابی لوک روایات میں وہ تفصیلات ملتی ہیں ، جنھیں سونے کے پانی سے لکھا جاسکتا ہے۔۔ رائے احمد خان کھرل کی 1776ء کو گاؤں جھامرہ میں رائے نتھو خان کھرل اور فتح بی بی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ موجودہ ساہیوال، فیصل آباد اور اوکاڑہ کے نقشے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ رائے احمد خان کھرل سے متعلق تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ گوگیرہ کے اسسٹنٹ کمشنر لیوپولڈ برکلے نے مقامی بااثر افراد سے برطانوی حکومت کی مدد کے لیے سپاہی اور گھوڑے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ رائے احمد خان کھرل نے اس مطالبے کو رد کردیا ۔ جولائی 1857ء میں جوئیہ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو محصولات اور برطانوی حکومتی مطالبات سے متعلق تنازعات کے بعد گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے نتیجے میں مقامی آبادی میں بے چینی پیدا ہوئی۔رائے احمد خان کھرل نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ قیدیوں کو رہا کرانے کے لیے گوگیرہ جیل پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔ اس کارروائی میں بگھیلا، فتیانہ، وٹو اور کاٹھیا برادریوں کے افراد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔۔ بعض تاریخی بیانیوں کے مطابق حملہ تقریباً 26 جولائی 1857ء کو کیا گیا۔ جس میں سرکار کا شدید جانی و مالی نقصان ہوا ۔ اس حملے کے بعد رائے احمد خان کھرل کو گرفتار کیا گیا، لیکن انہیں کم ثبوت کی بنا پر بعد میں رہا کر دیا گیا۔بعد ازاں انھیں دوبارہ گرفتار کرنے کی کوششوں کے دوران برطانوی حکام نے جھامرہ پر کارروائی کی۔رائے احمد خان اس وقت وہاں موجود نہیں تھے، تاہم برطانوی دستوں نے مقامی آبادی اور ان کے خاندان پر دباؤ ڈالنے کے لیے گرفتاریاں کیں۔ ان کے چھوٹےبیٹے بالا خان کھرل کو بھی حراست میں لے لیا۔ رائے احمد خان کھرل کی تحریک میں مختلف مقامی قبائل اور سرداروں نے حصہ لیا۔ ان کے ساتھیوں میں مراد فتیانہ، سارنگ خان کھرل،مہر محمد کاٹھیا ،نتھو کاٹھیا، پیر نادر قریشی ،سوجا بھدرو ،مہر شاہ میر بگھیلہ ،ولی داد مردانہ اور دیگر کئی نام شامل تھے۔ گوگیرہ جیل کے واقعے کے بعد رائے احمد خان کھرل اور ان کے ساتھیوں نے برطانوی فوج کے خلاف گوریلا طرز کی مزاحمت اختیار کی۔ بار کے وسیع جنگلات، گھاس کے میدان اور مقامی جغرافیہ ان کے لیے پناہ گاہوں کا کام کرتے تھے۔ وہ مختلف گروہوں کی صورت میں کارروائیاں کرتے اور برطانوی فوجی نقل و حرکت کو چیلنج کرتے تھے۔ تاریخی روایات میں بتایا جاتا ہے کہ مزاحمت کے دوران باغیوں کی تعداد بعض اوقات 20 ہزار سے 30 ہزار تک تھی۔رائے احمد خان کھرل اور دیگر قبائلی رہنماؤں نے گوگیرہ پر ایک بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی بھی کی، لیکن اس منصوبے کی اطلاع برطانوی حکام تک پہنچ گئی۔ رائے احمد خان کھرل کی آخری مزاحمتی کارروائیوں کا تعلق گشکوری کے جنگلات سے بتایا جاتا ہے ۔ برطانوی حکام کو جب ان کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ان کے خلاف فوجی دستہ روانہ کیا گیا،آخر کارکئی مہینوں کی مزاحمت کے بعد 21 ستمبر 1857ء کو رائے احمد خان کھرل اور انکے چند ساتھیوں کو گشکوری کے جنگلات میں نورے دی ڈل نامی جگہ پر اس وقت شہید کیا گیا جب وہ نماز عصر ادا کررہے تھے ۔ گشکوری کے جنگلات اور شہادت کا مقام اس وقت ضلع گوگیرہ میں واقع تھا، جو بعد میں ساہیوال اور منٹگمری کہلانے لگا۔یہی مقام اس وقت موجودہ ضلع اوکاڑہ میں موجود ہے۔ رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعد ان کے ساتھیوں نے اسسٹنٹ کمشنر برکلے کو اگلے چوبیس گھنٹوں ہی میں موت کا گھاٹ اُتار دیا ، مراد فتیانہ نے اسے برچھا مارا اور سوجا بھدرو نےآگے بڑھ کر ڈنڈوں کے وار سے اسے ابدی نیند سلا دیا ۔خص کم جہاں پاک رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعدانگریزوں کی طرف سے ان کے سر کو گوگیرہ جیل میں نمائش کے لیےرکھا گیا۔جہاں سے ایک دلیر انسان نے چوری کرکے قبرستان میں دن کردیا ۔ رائے احمد خان کھرل کا نام پنجابی لوک ادب، ڈھولا شاعری اور تاریخی تحریروں میں مزاحمت اور قربانی کی علامت کے طور پر زندہ رہا ہے۔ ان کی داستان خطۂ پنجاب کی مزاحمتی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ان کی زندگی اور شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تاریخ صرف حکمرانوں اور سلطنتوں کے فیصلوں سے نہیں بنتی بلکہعام لوگوں کی قربانیوں اور جدوجہد سے بھی تشکیل پاتی ہے۔


