پروفیسر میاں محمد مرغوب — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" کی آج کی معزز شخصیت، ساہیوال کے ادبی افق کا ایک روشن ستارہ، ممتاز شاعر، نقاد اور ماہرِ تعلیم پروفیسر میاں محمد مرغوب ہیں۔
آپ نے نہ صرف اپنی شاعری سے اردو ادب کو مالا مال کیا بلکہ گورنمنٹ کالج ساہیوال میں طویل عرصہ تدریسی خدمات انجام دے کر ہزاروں طلبہ کی علمی و ادبی تربیت بھی کی۔
پروفیسر میاں محمد مرغوب 28 فروری 1933ء کو بھارتی پنجاب کے شہر فریدکوٹ میں میاں محمد یعقوب کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ ضلع منٹگمری (ساہیوال) منتقل ہوگئے۔ شاعری کا ذوق بچپن ہی سے موجود تھا، تاہم تعلیم کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔
1961ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد آپ نے شعبۂ تدریس اختیار کیا۔ مختلف تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے کے بعد گورنمنٹ کالج ساہیوال سے وابستہ ہوئے اور ریٹائرمنٹ تک اسی ادارے کے شعبۂ اردو میں تدریسی فرائض سرانجام دیتے رہے۔ بعدازاں آپ شعبۂ اردو کے صدر اور پھر وائس پرنسپل کے منصب تک پہنچے۔
گورنمنٹ کالج ساہیوال میں آپ کو معروف ادیب و محقق پروفیسر ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم کی رفاقت نصیب ہوئی، جس نے آپ کی ادبی شخصیت کو مزید نکھارا۔ اسی زمانے میں پروفیسر سید ریاض حسین زیدی کے قائم کردہ ادبی مرکز ادب سرائے سے وابستگی نے شاعری کے ذوق کو نئی توانائی عطا کی۔
پروفیسر میاں محمد مرغوب نے اپنی شاعری میں نئی اصطلاحات اور منفرد اسلوب کو فروغ دیا۔ انہیں حاجی بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، جعفر شیرازی، پروفیسر وقار عظیم، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر عبادت بریلوی، ڈاکٹر وحید قریشی اور ڈاکٹر افتخار صدیقی جیسی عظیم ادبی شخصیات کی قربت حاصل رہی۔
ان کے رنگِ تغزل کی ایک خوبصورت جھلک ملاحظہ ہو:
گردشِ ایام کو حالات کہتے ہیں یہاں
وقت کی کروٹ کو ہی لمحات کہتے ہیں یہاں
آنکھ کا پردہ بصارت آشنا ہوتا نہیں
روشنی کی بے بسی کو رات کہتے ہیں یہاں
آپ کا شعری مجموعہ "ستارے ٹانکتے رہنا" ساہیوال سے شائع ہوا، جسے اہلِ ذوق میں بے حد پذیرائی ملی۔ 1993ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے مکمل طور پر شعر و ادب کو اپنی زندگی کا محور بنا لیا اور اردو ادب کی خدمت میں مصروف رہے۔
جولائی کی 16 تاریخ 2016ء کو میاں مرغوب اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے آپ کو قبرستان ماہی شاہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
آخر میں میاں صاحب کا ایک خوبصورت شعر دیکھیے:
مٹے جاتے ہو تم مرغوب کے حسنِ تغزل پر
بسی ہے چاندنی دل میں جمالِ ماہتابی کی
