شیخ محمد یونس — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کے مہمان ہیں معروف کاروباری اور سماجی شخصیت شیخ محمد یونس!
جب بھی ضلع ساہیوال کی سماجی، فلاحی اور کاروباری تاریخ مرتب ہوگی اس میں شیخ محمد یونس کا نام ہمیشہ عزت اور احترام سے لیا جائے گا۔ شیخ محمد یونس ولد شیخ محمد حسین کا تعلق ساہیوال سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پی اے عزیز سکول، پل بازار ساہیوال سے حاصل کی اور میٹرک کے بعد عملی زندگی کا آغاز اپنے والد محترم کے ساتھ کیا۔
وہ بچپن ہی سے محنتی، ذہین اور باصلاحیت تھے۔ تقریباً گیارہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنے والد، جنہیں محبت سے باؤ جی کہا جاتا تھا، کے ساتھ کچے چمڑے کی خریداری کے کام سے کاروبار سیکھنا شروع کیا۔ یہی وہ راستہ تھا جب انہوں نے محنت، دیانت، معاملہ فہمی اور کاروباری اصولوں کو قریب سے سمجھا۔ والد کی تربیت نے ان کی شخصیت کو مضبوط بنیاد فراہم کی اور وہ آگے چل کر ساہیوال کے کامیاب، بااعتماد اور خدمت گزار افراد میں شمار ہونے لگے۔
شیخ محمد یونس صرف کاروباری شخصیت نہیں تھے بلکہ ایک دردِ دل رکھنے والے انسان بھی تھے۔ انہوں نے اپنی محنت اور لگن کے بل پر ساہیوال ٹیچنگ اسپتال ہسپتال میں ڈائیلیسز سینٹر قائم کرکے عوام الناس کی دعائیں سمیٹیں۔۔ یہ مرکز ہزاروں مریضوں کے لیے امید کا سہارا بنا، خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے یا دوسرے شہروں کا سفر کرنے سے قاصر تھے۔
سن 2002 سے 2023 تک شیخ محمد یونس اور ان کے خاندان نے ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مختلف شعبوں کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی اسی مسلسل خدمت، سرپرستی اور تعاون کی وجہ سے انہیں محبت اور احترام کے ساتھ “گرینڈ فادر آف ڈی ایچ کیو” بھی کہا جاتا تھا، وہ اپنی نگرانی میں یہ سارا کام۔کرواتے رہے۔
ان کا کام صرف ایک شعبے تک محدود نہیں تھا بلکہ جہاں ضرورت محسوس ہوئی، انہوں نے خاموشی کے ساتھ اپنا حصہ ڈالا۔ انسان کی اصل پہچان اس کے کردار اور خدمت سے ہوتی ہے۔ شیخ محمد یونس نے اپنی زندگی میں یہی ثابت کیا کہ دولت کی اصل خوبصورتی تب ہے جب وہ مخلوقِ خدا کے کام آئے۔ انہوں نے نیکی کو نمود و نمائش کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ خاموش خدمت کو اپنا شعار بنایا۔
یہی وجہ ہے کہ ساہیوال کے لوگ آج بھی انہیں محبت اور دعاؤں کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ ان کی بے شمار سماجی اور فلاحی خدمات کے اعتراف میں 2016-17 میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا، جو نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے ساہیوال کے لیے باعث فخر اعزاز ہے۔ چیچہ وطنی میں شیخ یونس ہیمو ڈائلیسز سنٹر کا قیام بھی انہی کے نام اور ان کے خاندان کا مرہون منت ہے۔۔شیخ محمد یونس 16 نومبر 2023 کو اس دنیا سے رخصت ہوئے، مگر ان کی خدمات، نیک نامی اور دعائیں آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ ایسے لوگ کبھی مرتے نہیں ہمیشہ لوگوں کے دلوں اور تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔
بعض لوگ اپنی دولت سے محض جائیدادیں بناتے ہیں، مگر کچھ خوش نصیب اپنی دولت کو انسانیت کی خدمت میں لگا کر دلوں میں ہمیشہ کے لیے گھر بنا لیتے ہیں۔ مرحوم شیخ یونس انہی عظیم انسانوں میں سے تھے۔
ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال میں گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلسز مشینوں کی فراہمی ہو یا بے شمار دیگر طبی سہولیات، ان کی ہر کاوش انسانی جانوں کو سہارا دینے کا ذریعہ بنی۔
انہوں نے صرف علاج کی سہولت ہی نہیں دی بلکہ بے شمار خاندانوں کو روزگار فراہم کرکے ان کی زندگیوں میں امید کی روشنی بھی پیدا کی۔
ایسے لوگ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کے نیک اعمال ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ مرحوم شیخ یونس کا نام خدمتِ خلق، ایثار اور انسان دوستی کی ایک روشن مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی ہر نیکی کو صدقۂ جاریہ بنا کر ان کے لیے آخرت میں نجات اور بلندی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
شیخ صاحب نے اپنے پیچھے صرف کاروباری وراثت نہیں چھوڑی بلکہ خدمت، دیانت، محبت اور انسانیت کی وہ میراث چھوڑی ہے، جو نسلوں تک یاد رکھی جائے گی، ان کی خدمات قبول فرمائے اور ان کے خاندان کو اسی جذبۂ خدمت کے ساتھ آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
یقینی طور پر شیخ محمد یونس شانِ ساہیوال ہی نہیں، شانِ پاکستان کہلانے کے حق دار بھی ہیں۔۔
