سید جعفر شیرازی — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال کے آج کے مہمان! سید جعفر شیرازی: دبستانِ ساہیوال کا روشن ادبی حوالہ
ساہیوال کی ادبی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی تو اس میں سید جعفر شیرازی کا نام احترام اور محبت کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ اردو غزل کے ان سنجیدہ اور معتبر شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ساہیوال کے ادبی ماحول کو وقار، شائستگی اور فکری گہرائی عطا کی۔ ریختہ کے مطابق ان کا تخلص “جعفرؔ” تھا، ان کا تعلق پاکستان سے تھا اور ان کے نام کے ساتھ 1920ء کا حوالہ درج ہے۔
جعفر شیرازی کا تعلق اس ادبی فضا سے تھا جس نے ساہیوال کو صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایک دبستان کی حیثیت دی۔ یہ وہی شہر ہے جہاں مجید امجد، منیر نیازی، بشیر احمد بشیر، گوہر ہوشیار پوری، یاسین قدرت، ناصر شہزاد، ریاض حسین زیدی اور دیگر کئی اہلِ قلم نے محفلیں سجائیں۔ کیفے ڈی روز، اسٹیڈیم ہوٹل اور شہر کی ادبی بیٹھکیں ایک زمانے میں شعر و سخن کے مراکز ہوا کرتی تھیں۔ ان محفلوں میں جعفر شیرازی بھی نمایاں طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
ریختہ پر جعفر شیرازی کی 18 غزلیں اور تین ای کتابیں درج ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں “ہوا کے رنگ”، “یہ حساب ہیں مہ و سال کے” اور “محبت آئینہ ہے” قابلِ ذکر ہیں۔ ریختہ کے مطابق “ہوا کے رنگ” 1962ء میں شائع ہوئی، “یہ حساب ہیں مہ و سال کے” 1991ء میں جبکہ “محبت آئینہ ہے” 1996ء میں سامنے آئی۔ یہ کتابیں ان کے فکری اور شعری سفر کی اہم نشانیاں ہیں۔
جعفر شیرازی صرف شاعر ہی نہیں بلکہ نئی نسل کے لیے استاد اور رہنما بھی تھے۔ ساہیوال کے کئی شعرا نے ان سے اصلاحِ سخن لی اور شعر کے اسرار و رموز سیکھے۔ معروف شاعر واصف سجاد کے حوالے سے بھی یہ بات ملتی ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری کے ابتدائی سفر میں جعفر شیرازی سے رہنمائی حاصل کی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جعفر شیرازی کی شخصیت صرف اپنی تخلیق تک محدود نہ تھی بلکہ وہ ایک ادبی روایت کو آگے منتقل کرنے والے بزرگ شاعر بھی تھے۔
ان کی شاعری میں جذبے کی نرمی، خیال کی تازگی اور زبان کی تہذیب نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ شعر کو محض الفاظ کا کھیل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے احساس، تہذیب اور باطنی تجربے کا اظہار بناتے تھے۔ ان کی غزل میں شور نہیں بلکہ ٹھہراؤ ہے، بناوٹ نہیں بلکہ سادگی ہے، اور یہی سادگی قاری کے دل پر اثر چھوڑتی ہے۔
نمونۂ کلام
مری تمنا ہے اب کے تم پھر ملو تو جی بھر کے مسکرائیں
کہ دیکھنا ہے یہ روشنی کا سفر بہت دیر بعد جا کر
اور اسی طرح ایک غزل کے اولین دو اشعار ہیں !
دن نکلتا ہے تو سامان سفر ڈھونڈتے ہیں
رات پڑتی ہے تو ہم اپنی خبر ڈھونڈتے ہیں
رابطہ کچھ تو رہے روح کا پاتال کے ساتھ
آج ہم بھی تری آنکھوں میں بھنور ڈھونڈتے ہیں
جعفر شیرازی کا ایک اہم حوالہ مجید امجد سے ان کی وابستگی بھی ہے۔ ساہیوال کی ادبی تاریخ میں مجید امجد ایک عظیم نام ہیں اور جعفر شیرازی ان شخصیات میں شامل ہیں جن کا نام مجید امجد کے ادبی حلقے اور یادداشتوں کے ساتھ بھی آتا ہے۔ ان کے مضمون “مجید امجد اور میں” کا حوالہ بھی تحقیقی تحریروں میں ملتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے عہد کے بڑے ادبی ناموں کے قریب رہے اور اس ماحول کا حصہ تھے جس نے ساہیوال کی ادبی شناخت کو مضبوط کیا۔
ساہیوال ٹائمز اپنے شہر کے ایسے اہلِ علم و ادب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے اس دھرتی کا نام روشن کیا۔ سید جعفر شیرازی بھی انہی روشن چراغوں میں سے ایک ہیں جن کی ادبی خدمات کو یاد رکھنا ساہیوال کی نئی نسل کے لیے ضروری ہے۔
