شانِ ساہیوال

گوہر ہوشیار پوری — شانِ ساہیوال

گوہر ہوشیار پوری — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں معروف شاعر گوہر ہوشیار پوری کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد اشرف خان تھا۔ وہ 1930ء میں بھارتی پنجاب کے شہر ہوشیار پور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد منٹگمری، موجودہ ساہیوال، آکر مقیم ہوئے اور دبستانِ ساہیوال کے اہم ترین شعرا میں شمار ہوئے۔


گوہر ہوشیار پوری عظیم شاعر مجید امجد کے ہم عصر تھے۔ ان کی شاعری میں نرم، دھیمے اور گہرے جذبات، سادگی، بے ساختگی اور معنی آفرینی نمایاں ہے۔ بالخصوص چھوٹی بحروں میں غزل کہنے کے فن پر انہیں خاص قدرت حاصل تھی۔


ساہیوال میں 1960ء کی دہائی کا ادبی ماحول اپنے عروج پر تھا۔ مجید امجد، گوہر ہوشیار پوری، منیر نیازی، قیوم صبا، بشیر احمد بشیر، ناصر شہزاد، جعفر شیرازی، مراتب اختر اور یٰسین قدرت جیسے شعرا نے ادبی محفلوں کو یادگار بنایا۔ جوگی ہوٹل اور دیگر ادبی بیٹھکوں میں ہونے والی شعری نشستوں میں گوہر ہوشیار پوری اہم حصہ لیتے تھے۔


ان کی ادبی رفاقتیں لاہور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ اشرف قدسی کے بیان کے مطابق وہ لاہور ریلوے ورکشاپ اور بعد ازاں ریلوے ہیڈکوارٹر سے وابستہ رہے۔ طارق عزیز اور اشرف قدسی کے ساتھ شام کی ادبی نشستیں، تازہ اشعار اور ادبی گفتگو ان کی زندگی کا حصہ تھیں۔ گوہر ہی کی معرفت اشرف قدسی کی ملاقات معروف نقاد و ادیب سید عابد علی عابد سے ہوئی۔


گوہر ہوشیار پوری کی شاعری میں خواب ایک اہم استعارہ ہے۔ خواب ان کے ہاں امید، آرزو، ہجرت، زندگی اور انسانی باطن کی علامت بن جاتے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ "بساط" 1986ء میں شائع ہوا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں کسی ادیب یا شاعر کا دیباچہ شامل نہیں کیا، جو ان کی خود اعتمادی اور ادبی نمود و نمائش سے بے نیازی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔


ان کا لہجہ نرم، مترنم اور دل نشیں تھا۔ غزل میں سادہ الفاظ کے ساتھ جذبے کی گہرائی، خیال کی تازگی اور محبت، تنہائی، خواب، ہجرت اور انسانی دکھ کے موضوعات نمایاں ہیں۔


یہ نم، یہ رنگ، یہ خوشبو سدا رہے گوہر

مرا وطن، مرے موسم، مری غزل کے غزال


گوہر ہوشیار پوری صرف شاعر نہیں بلکہ ساہیوال کی اس ادبی روایت کی اہم کڑی تھے جس نے اس شہر کو اردو ادب کے نقشے پر نمایاں کیا۔