کیپٹن عثمان علی شہید — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں آج کی مہمان شخصیت ہیں کیپٹن عثمان علی شہید!
کیپٹن عثمان علی شہید (7 آزاد کشمیر رجمنٹ) پاک فوج کے ایک بہادر افسر تھے، اور ضلع ساہیوال کے بیٹے تھے۔
کیپٹن عثمان علی 28 فروری 1988ء کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم، طارق بن زیاد سکول اور پاکستان اسکاؤٹس کیڈٹ کالج بٹراسی، مانسہرہ سے حاصل کی۔
انٹرمیڈیٹ مکمل کرنے کے بعد وہ 2005ء میں پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کا حصہ بنے اور 27 اکتوبر 2007ء کو 116 پی ایم اے لانگ کورس (صلاح الدین کمپنی) سے پاس آؤٹ ہو کر پاک فوج میں کمیشنڈ افسر بھرتی ہوئے۔
انہوں نے مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز میں بھرپور حصہ لیا اور علاقے میں امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
26 نومبر 2011ء کو افغانستان کی سرحد کے قریب مہمند ایجنسی میں واقع پاک فوج کی دو چوکیوں (سلالہ چیک پوسٹ) پر امریکی اور نیٹو افواج کے ہیلی کاپٹروں اور لڑاکا طیاروں نے یکطرفہ حملہ کر دیا۔ اس حملے میں کیپٹن عثمان علی نے میجر مجاہد علی میرانی اور دیگر 24 فوجیوں کے ہمراہ جوانمردی سے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر محض 23 برس تھی اور ان کی ایک دو ماہ کی بیٹی (رامین) تھی۔
انہیں ان کے آبائی شہر ساہیوال میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ہر سال یومِ تکریمِ شہداء اور یومِ دفاع پر اعلیٰ سرکاری و عسکری حکام ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔
ساہیوال کے شہریوں اور حکومت نے ان کی لازوال قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جھال روڈ ساہیوال سے منسلک فلائی اوور کا نام کیپٹن عثمان شہید فلائی اوور رکھا۔کیپٹن عثمان شہید واقعی شانِ ساہیوال تھے۔
