پروفیسر ڈاکٹر عطش درانی — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج ہیں ساہیوال دھرتی کی ایک اور خوبصورت شخصیت پروفیسر ڈاکٹر عطش درانی!
ڈاکٹر عطش درانی کا اصل نام عطاء اللہ خان تھا۔ وہ 22 جنوری 1952ء کو منٹگمری (ساہیوال) میں پیدا ہوئے۔
عطش درانی نے علم و ادب کی مختلف جہتوں میں غیر معمولی کام کیا۔ وہ محقق، نقاد، ماہرِ لسانیات، ماہرِ تعلیم، مصنف، مدیر، اصطلاحات ساز اور کمپیوٹر پر اردو کے نفاذ کے حوالے سے پاکستان کے اہم ترین ماہرین میں شمار ہوتے تھے۔ انہیں علمِ جواہرات سے بھی دلچسپی تھی۔ ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اردو زبان کو محض کتاب اور کاغذ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے جدید کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے عملی اور تحقیقی بنیادوں پر کام کیا۔
ان کی اعلیٰ تعلیم کا مرکز پنجاب یونیورسٹی لاہور رہا، جہاں سے انہوں نے ایم اے اردو، ایم اے ایجوکیشن اور بعد ازاں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی پی ایچ ڈی کا موضوع اردو اصطلاحات سے متعلق تھا اور انہوں نے 1991ء میں یونیورسٹی اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اعدادوشمار، صحافت، منصوبہ بندی، تحقیقی طریقۂ کار، نصاب سازی اور درسی کتب کی تیاری جیسے شعبوں میں بھی مختلف تربیتی کورسز اور اسناد حاصل کیں۔
عملی زندگی میں عطش درانی نے متعدد قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سے تدریسی وابستگی رکھتے تھے، مختلف علمی و ادبی جرائد کی ادارت سے منسلک رہے، سیارہ ڈائجسٹ اور اخبارِ اردو جیسے مطبوعات میں خدمات انجام دیں اور حکومتِ پنجاب کے رسالے اردو نامہ کی ادارت بھی کی۔ ان کی ادارت میں اردو نامہ محض ایک سرکاری رسالہ نہیں رہا بلکہ ایک علمی اور تحقیقی جریدے کی صورت اختیار کر گیا۔
بعد ازاں وہ مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد سے وابستہ ہوئے اور تقریباً 27 برس تک قومی زبان کے مختلف منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ بیورو آف ٹرانسلیشنز، ڈکشنریز اینڈ ٹرمینالوجیز کے سربراہ رہے اور اصطلاحات سازی، لغت نویسی، تحقیق، تدوین اور زبان کی منصوبہ بندی کے میدان میں گراں قدر کام کیا۔ انہوں نے اصطلاحات سازی کے موضوع پر تحقیق کرتے ہوئے اردو کے علمی و فنی ذخیرے کو وسعت دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عطش درانی اردو اطلاعیات کے بانیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ 1998ء میں مقتدرہ قومی زبان میں مرکزِ فضیلت برائے اردو اطلاعیات قائم ہوا تو وہ اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ انہوں نے اردو کو کمپیوٹر، انٹرنیٹ، سافٹ ویئر اور جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے میدان میں متعارف کرانے کے لیے بنیادی نوعیت کا کام کیا۔ ان کی سربراہی میں اردو کے لیے معیاری کلیدی تختوں، کمپیوٹر کوڈنگ، ڈیٹا بینک، مشینی ترجمے اور دیگر تکنیکی منصوبوں پر کام ہوا۔
مائیکروسافٹ کے ساتھ اردو زبان کی لوکلائزیشن بھی ان کی زندگی کا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ وہ Microsoft Local Language Program for Urdu کے پہلے انچارج رہے۔ ان کی کوششوں اور ان کی ٹیم کے کام کے نتیجے میں اردو کو مائیکروسافٹ کی مختلف مصنوعات میں جگہ ملی۔ Windows XP، Office 2003، Windows Vista، Windows 7 اور Office 2010 کی اردو لوکلائزیشن کے کام میں بھی ان کی رہنمائی اور کردار کا ذکر ملتا ہے۔ اس طرح اردو بولنے والے صارفین کے لیے کمپیوٹر کی دنیا میں داخل ہونے کے امکانات کہیں زیادہ آسان ہوئے۔
اردو کمپیوٹنگ کے میدان میں ان کا ایک منفرد علمی کارنامہ Ghost Characters Theory یا گھوسٹ کریکٹرز کی نظریۂ تحلیل و ترکیب ہے۔ اس نظریے کے ذریعے اردو اور عربی رسم الخط کے حروف کی ساخت، نقطوں اور بنیادی اجزا کو کمپیوٹر پر معیاری انداز میں استعمال کرنے کے امکانات پر کام کیا گیا۔ ان کی یہ تحقیق یونی کوڈ کے مباحث تک پہنچی اور ان کے کام نے اردو سمیت عربی رسم الخط کی دوسری زبانوں کی کمپیوٹرائزیشن کے مباحث میں اہم مقام حاصل کیا۔
ڈاکٹر عطش درانی نے نصاب سازی اور درسی کتب کی تیاری میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ وفاقی وزارتِ تعلیم کے کریکولم ونگ، نیشنل کریکولم کونسل، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے اداروں کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کرتے رہے۔ وہ نصابی اور درسی کتب کی تیاری کے ماہر کی حیثیت سے بھی پہچانے جاتے تھے۔ بین الاقوامی سطح پر ADB، GIZ/GTZ، JICA، ESRA، UNESCO اور USAID جیسے اداروں کے منصوبوں میں بھی ان کی علمی و فنی خدمات شامل رہیں۔
ان کا ایک اور اہم کارنامہ INKSOFT Inc. اسلام آباد سے وابستہ ہے، جسے پاکستان کی پہلی سافٹ ویئر لوکلائزیشن کمپنی قرار دیا جاتا ہے۔ عطش درانی اس کے بانی اور اعزازی چیئرمین رہے۔ یہاں اردو کے ساتھ ساتھ پشتو، پنجابی، سندھی، فارسی، دری اور عربی زبانوں کے لیے لوکلائزیشن کے کام ہوئے۔ ان کے ادارے کی طرف سے ہزاروں صفحات کے ادبی، سرکاری، فنی اور کمپیوٹر مواد کو مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کا کام کیا گیا۔
عطش درانی کی علمی زندگی کا دائرہ صرف کمپیوٹر اور لسانیات تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے اردو ادب، تحقیق، تنقید، اصطلاحات، تعلیم، نصاب سازی، لغت نویسی، اقبالیات، تاریخِ سائنس، جواہرات اور اردو زبان کی پالیسی جیسے موضوعات پر وسیع کام کیا۔ ان کی تصانیف اور مرتب کردہ کتابوں کی تعداد 275 سے زیادہ ہے، جبکہ ان کے اردو اور انگریزی مقالات کی تعداد بھی سیکڑوں میں ہے۔
ان کی نمایاں کتابوں میں اردو اصطلاحات نگاری: کتابیاتی جائزہ، اردو زبان و ادب کی پہلی کتاب، اردو ادب میں جدیدیت، اردو اصناف کی مختصر تاریخ، پاکستانی اردو، پاکستانی اردو کے خد و خال، اردو تدریسیات، اردو اور لسانی پالیسی، اردو کی لسانی ترقی: مسائل اور امکانات، اردو زبان اور یورپی اہلِ قلم، اسلامی فکر و ثقافت، اماں سین، مشرقی ممالک میں قومی زبان کے ادارے، مغربی ممالک میں ترجمے کے قومی اور عالمی مراکز، حکومتِ پاکستان کے تربیتی ادارے اور اصطلاحی جائزے شامل ہیں۔ ریختہ پر بھی ان کی متعدد تصانیف اور مرتب کردہ کتابوں کا ریکارڈ موجود ہے۔
ان کی کتاب اردو اصطلاحات نگاری: کتابیاتی جائزہ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں اردو میں اصطلاحات سازی اور اصطلاحی لغات کی روایت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور ڈاکٹر درانی نے اپنے تحقیقی کام میں 725 سے زائد اصطلاحی لغات اور جزوی اشاریوں کی نشاندہی کی۔
اسی طرح اسلامی فکر و ثقافت ان کی ایک اہم تصنیف ہے جو 1980ء میں مکتبۂ عالیہ لاہور سے شائع ہوئی، جبکہ اماں سین بھی ان کی معروف کتابوں میں شامل ہے۔ ان کے علمی کام کی وسعت کا اندازہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ ان کی کتابیات میں اردو ادب سے لے کر سائنس، تعلیم، اصطلاحات، زبان، کمپیوٹر اور معلوماتی ٹیکنالوجی تک مختلف موضوعات ملتے ہیں۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ امتیاز اور بعد ازاں ستارۂ امتیاز جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ دستیاب حوالوں کے مطابق انہیں تمغۂ امتیاز 2011ء میں جبکہ ستارۂ امتیاز 23 مارچ 2016ء کو عطا کیا گیا۔
زندگی بھر علم، تحقیق اور زبان کی خدمت میں مصروف رہنے والا ساہیوال کا یہ عظیم سپوت 30 نومبر 2018ء کو وفات پا گیا۔ ان کی وفات اردو دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، لیکن ان کا علمی سرمایہ آج بھی زندہ ہے۔ اردو کو کمپیوٹر کے قابل بنانے، اردو اطلاعیات کو ایک مستقل علمی میدان کی صورت دینے، مائیکروسافٹ کی مصنوعات میں اردو کی رسائی بڑھانے، اصطلاحات سازی، نصاب سازی اور تحقیق و تصنیف کے میدان میں ان کی خدمات انہیں پاکستان کے علمی و لسانی منظرنامے کی ایک اہم شخصیت بناتی ہیں۔
ساہیوال کے لیے ڈاکٹر عطش درانی کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اس شہر نے ایسا فرزند پیدا کیا جس نے اردو زبان کو صرف کتابوں کی دنیا میں نہیں بلکہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی ایک نئی زندگی دینے کی کوشش کی۔ وہ اس نسل کے عالم تھے جس نے قلم اور کتاب سے سفر شروع کیا اور کمپیوٹر کی سکرین تک اردو کو پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آج جب ہم موبائل فون پر آسانی سے اردو لکھتے ہیں، اردو ویب سائٹس پڑھتے ہیں اور کمپیوٹر پر اردو استعمال کرتے ہیں تو اس سفر کے ابتدائی معماروں میں ڈاکٹر عطش درانی کا نام یقیناً احترام سے لیا جائے گا۔ یقینی طور پر ڈاکٹر صاحب ناصرف شانِ ساہیوال بلکہ شانِ پاکستان بھی تھے۔
