ظہور احمد نظر — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی شخصیت ہیں معروف پنجابی شاعر جناب ظہور احمد نظر!
پورا نام ملک ظہور احمد، تخلص نظر، منفرد لہجے میں اردو کے معروف شاعر۔ 22 اگست 1923ء کو ضلع منٹگمری/ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے زندگی کی سختیوں، معاشی جدوجہد اور محدود تعلیمی مواقع کے باوجود انہوں نے اپنی محنت، مطالعے اور غیرمعمولی تخلیقی صلاحیت کے ذریعے اردو ادب میں ایک نمایاں مقام پیدا کیا۔
ظہور نظر اپنی باقاعدہ تعلیم زیادہ عرصہ جاری نہ رکھ سکے۔ مخدوش معاشی حالات نے انہیں تعلیمی سفر مکمل کرنے کا موقع نہ دیا، لیکن علم سے ان کا رشتہ کبھی منقطع نہ ہوا۔ انہوں نے اپنے طور پر مطالعہ جاری رکھا اور زندگی کے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ یہی مسلسل مطالعہ، مشاہدہ اور زندگی کی کڑی آزمائشیں آگے چل کر ان کی شخصیت اور شاعری کا سرمایہ بنیں۔
ظہور نظر نے زندگی میں مختلف کام کیے۔ الیکٹریشن، ٹھیکیداری، کاشتکاری، ہوٹل میں ملازمت، پھر مرغیاں پالیں اور مزدوری بھی کی۔ انہوں نے عام آدمی کی محنت، غربت، دکھ، محرومی اور جدوجہد کو قریب سے دیکھا اور خود بھی زندگی کی سختیوں کا سامنا کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں محض خیالی دنیا نہیں بلکہ زندگی کی سچی تصویریں، انسانی دکھ اور سماجی مسائل بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔
وہ ساہیوال سے بہاولپور شفٹ ہوئے تو بہاول پور ہی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ستلج کے مدیر رہے۔ اردو نظم کے میدان میں ظہور نظر کا مقام خاصا بلند سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مجموعۂ نظم ’’ریزہ ریزہ‘‘ کو ان کی اہم تخلیقی کاوشوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس مجموعے میں آزاد اور پابند نظم کے درمیان ایک منفرد اور دل کش انداز دکھائی دیتا ہے۔ ان کی نظموں میں اسلوب اور تکنیک کے اعتبار سے بھی جدت پائی جاتی ہے۔ معروف ادیب احمد ندیم قاسمی نے ان کی نظم نگاری کو اپنے ہم عصروں سے مختلف قرار دیتے ہوئے ان کے مخصوص فنی سلیقے کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا۔
ظہور نظر کی شاعری اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ روایت سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے تقاضوں کو بھی سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری صرف اردو تک محدود نہیں رہی۔ ان کی نظموں کے انگریزی، روسی، چینی، ڈچ اور اطالوی زبانوں میں تراجم ہوئے، جو ان کے فن کی وسعت اور ادبی صلاحیتوں کی پہچان ہے۔
ظہور نظر نے فلمی دنیا کے لیے بھی نغمے لکھے۔ وی شانتا رام کی معروف فلم ’’پڑوسی‘‘ کے مقبول گانوں سے ان کا نام وابستہ بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض فلموں کے لیے بھی انہوں نے نغمات تحریر کیے۔ یوں ان کی تخلیقی صلاحیت صرف کتابی شاعری تک محدود نہیں رہی بلکہ انہوں نے فلمی نغمہ نگاری کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ زندگی کے آخری دنوں میں انہوں نے ریڈیو پاکستان ملتان اور ریڈیو پاکستان بہاول پور کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔
ظہور نظر کی تصانیف میں ’’بھیگی پلکیں‘‘، ’’ریزہ ریزہ‘‘ اور ’’زنجیر وفا‘‘ شامل ہیں۔ ان کے کلام میں غزل اور نظم دونوں اصناف پر مضبوط گرفت دکھائی دیتی ہے۔ غزل میں وہ محبت، جدائی، دکھ اور انسانی جذبات کو دل نشیں انداز میں بیان کرتے ہیں، جبکہ نظم میں ان کا فکری، سماجی اور ترقی پسند شعور زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے۔ ان کے بعض اشعار آج بھی ان کے مخصوص اندازِ بیان کی یاد دلاتے ہیں:
دیپک راگ ہے چاہت اپنی
کاہے سنائیں تمہیں
ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں
کیوں سلگائیں تمہیں
اسی طرح ان کے ہاں خوف، جبر اور زندگی کی بے یقینی بھی بڑے مؤثر انداز میں سامنے آتی ہے:
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں
45 سال قبل آج ہی کے دن یعنی 7 ستمبر 1981ء کو یہ روشن فکر شاعر بہاول پور میں وفات پا گیا۔ ان کی وفات کے بعد بھی ان کی ادبی اہمیت برقرار رہی اور ان کی یاد میں ظہور نظر ادبی انعام بھی جاری کیا گیا۔ وہ بہاول پور کے قبرستان بابا شیر شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
#Sahiwal #ساہیوال_ٹائمز #SahiwalTimes


