شانِ ساہیوال

صغیر احمد طاہر — شانِ ساہیوال

صغیر احمد طاہر — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں رکنِ امریکی پارلیمنٹ جناب صغیر احمد طاہر کا تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ ساہیوال سے تعلق رکھنے والے صغیر احمد طاہر امریکا میں "سگی طاہر" (Saggy Tahir) کے نام سے بھی معروف تھے اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کی نمایاں سماجی و سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔


صغیر احمد طاہر تقریباً 1944ء یا 1945ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ دو برس کی عمر میں خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے ساہیوال، جسے اس وقت منٹگمری کہا جاتا تھا، آگئے۔ ابتدائی تعلیم ساہیوال سے حاصل کی، زندگی کا ابتدائی حصہ اسی شہر میں گزارا، مزید تعلیم کے لیے لاہور گئے اور پھر 1972ء میں امریکا روانہ ہوئے۔


انہوں نے فزکس اور ریاضی میں بی ایس کے ساتھ سول انجینئرنگ کی تعلیم بھی حاصل کی۔ امریکا پہنچے تو ان کے پاس تقریباً سو ڈالر تھے۔ تعمیراتی شعبے میں مختلف کام کرنے، کاروبار شروع کرنے اور رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے بعد انہوں نے مانچسٹر، نیو ہیمپشائر میں تعمیراتی کنسلٹنگ کا کامیاب کاروبار قائم کیا۔ وہ روفنگ، واٹر پروفنگ اور انرجی کے شعبوں میں کنسلٹنٹ رہے اور 1978ء میں امریکی شہری بنے۔


صغیر احمد طاہر نے ریپبلکن پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست میں قدم رکھا۔ 2000ء میں نیو ہیمپشائر ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کے لیے منتخب ہوئے اور مانچسٹر کے وارڈ 2 اور ہلزبرو ڈسٹرکٹ 9 کی نمائندگی کی۔ وہ مسلسل کامیابیوں کے بعد 2006ء میں چوتھی مرتبہ منتخب ہوئے اور تقریباً ایک دہائی تک ریاستی اسمبلی کا حصہ رہے۔ ان کی سیاسی ترجیحات میں تعلیم کے بہتر مواقع اور عوامی خدمت شامل تھے۔


وہ پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کی فلاحی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے، مقامی اسلامی سوسائٹی کے ساتھ کام کیا، Hooksett Community Food Pantry کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور 2005ء کے پاکستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی رقوم جمع کرنے میں فعال کردار ادا کیا۔ ساہیوال کے مختلف تعلیمی منصوبوں میں بھی ان کا مالی تعاون شامل رہا۔


صغیر احمد طاہر کی اہلیہ نصرت طاہر تھیں اور ان کے تین بچے مصباح، عدیل اور صنم تھے۔ وہ 16 اکتوبر 2013ء کو 68 برس کی عمر میں مانچسٹر، نیو ہیمپشائر میں انتقال کرگئے۔ ان کی زندگی ساہیوال سے امریکا تک محنت، تعلیم، سماجی خدمت اور سیاسی نمائندگی کی ایک قابلِ ذکر داستان ہے۔

صغیر احمد طاہر — شانِ ساہیوال | ساہیوال ٹائمز — ساہیوال ٹائمز