شانِ ساہیوال

شیخ مولانا عطاءاللہ جنوں — شانِ ساہیوال

شیخ مولانا عطاءاللہ جنوں — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں معروف استاد شاعر شیخ مولانا عطاءاللہ جنوں کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔


شیخ مولانا عطاءاللہ جنوں 1893ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی شہر ہوشیار پور تھا اور آٹھ برس کی عمر میں یتیمی کا دکھ سہنا پڑا۔ انہوں نے میو کالج آف آرٹس لاہور سے آرکیٹیکچرل ڈرافٹس مین کا ڈپلومہ حاصل کیا اور محکمۂ نہر ساہیوال میں ملازمت اختیار کی۔ تھل گریٹر کینال کے منصوبے کے تحت تبادلہ ہوا تو ملازمت چھوڑ دی اور زندگی بھر فوٹوگرافی کے پیشے سے وابستہ رہے۔ ساہیوال کے چاہ موراں والا، موجودہ مور والا چوک، میں ان کی معمولی جائیداد بھی تھی جس سے آمدنی ہوتی تھی۔


ان کے قریبی دوستوں میں سردار عبدالرب نشتر، حفیظ جالندھری، صوفی غلام مصطفیٰ تبسم اور اختر شیرانی شامل تھے۔ صوفی غلام مصطفیٰ تبسم سے ان کے قریبی مراسم تھے۔ ان کی شاعرانہ شوخی اور برجستگی کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ وہ شعر و سخن میں نئے آنے والوں کی رہنمائی کرتے اور اپنے دوستوں سے بے تکلفانہ مزاح بھی کرتے تھے۔ سردار عبدالرب نشتر شاعری میں ان سے مشورہ لیتے رہے۔ گورنر پنجاب کی حیثیت سے ساہیوال آمد پر نشتر نے مولانا جنوں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو مولانا نے انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی اور وہ واقعی ان سے گھر پر ملنے آئے۔


مولانا جنوں شاعری میں کسی کے شاگرد نہیں تھے، تاہم نووارد شاعروں میں جسے فطری صلاحیت نظر آتی اس کی رہنمائی کرتے۔ ان کے اہم شاگردوں میں سردار عبدالرب نشتر، صابر کنجاہی، بشیر احمد بشیر، اکرم خان قمر، ڈاکٹر مالھا رام اور ظہور احمد ظہور کے نام شامل ہیں۔


انہوں نے شادی نہیں کی اور تمام عمر اپنی بیوہ والدہ کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ والدہ کی وفات سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوا۔ شیخ مولانا عطاءاللہ جنوں کی تدفین ساہیوال کے قدیم ماہی شاہ قبرستان میں ہوئی۔ ان کی زندگی سادگی، فرض شناسی، خدمتِ والدہ، فوٹوگرافی اور شعر و ادب سے وابستگی کی مثال تھی۔


ان کی زندگی میں کوئی شعری مجموعہ شائع نہ ہوسکا۔ وفات کے تقریباً پچاس برس بعد پروفیسر محمد افتخار شفیع نے ان کا غیر مطبوعہ کلام "آثارِ جنوں" کے عنوان سے مرتب کیا۔ اس مجموعے نے ساہیوال کے اس منفرد استاد شاعر کے ادبی سرمائے کو محفوظ کردیا۔


ان کے کلام کے چند اشعار:


کون جاتا ہے، سرِ گورِ غریباں ہو کر

خاک اڑتی ہے مرے گرد بیاباں ہو کر


اہلِ کمال و فضل و کرامت سے ہے جنوں

لیکن خراب حال ہے نام و نشاں سے اور


خود وقار اپنا نہ کھو، ہم بے وقاروں سے نہ کھیل

قادرِ مطلق ہے تو، بے اختیاروں سے نہ کھیل


شیخ مولانا عطاءاللہ جنوں ساہیوال کی ادبی تاریخ کے استاد شاعر، صاحبِ مطالعہ، صاحبِ کردار اور کئی نسلوں کی شعری تربیت کرنے والے اہم بزرگ تھے۔