رامش منہاس — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں معروف ادبی شخصیت رامش منہاس کا تفصیلی تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام محمد حسن منہاس تھا، تاہم شعر و ادب میں وہ رامش منہاس کے نام سے معروف ہوئے۔
رامش منہاس 15 اگست 1955ء کو تاریخی شہر ہڑپہ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک تک تعلیم ہڑپہ سے حاصل کی اور بعد ازاں لاہور بورڈ اور پنجاب یونیورسٹی سے مختلف تعلیمی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ تقریباً تیس برس درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ عملی زندگی کا آغاز 1985ء میں ہڑپہ میں بطور معلم کیا۔ محکمانہ ترقی کے بعد ایس ایس ٹی اور پھر ای ڈی او آفس ساہیوال میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر 2011ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں پرنسپل رہے اور سروس مکمل کرکے 2015ء میں محکمۂ تعلیم سے ریٹائر ہوئے۔
ہڑپہ سے تعلق رکھنے والے معروف پنجابی ادیب و دانشور اے ڈی اعجاز کے نام سے قائم علمی رابطہ تنظیم "اے ڈی اعجاز ادبی مجلس" کے وہ اولین صدر ہیں۔ ادب میں ان کی آمد 1974ء میں ہوئی اور تاریخِ ہڑپہ میں پہلا شعری دیوان "دیارِ دل" متعارف کرانا ان کے ادبی سفر کا اہم سنگِ میل ہے۔
رامش منہاس کی دیگر کتابوں میں "میں نعت لکھوں، سلام لکھوں"، "دیارِ دل" کی دوبارہ اشاعت، "بات شناسائی کی"، "انتخابِ غزل" اور "عکسِ گنبدِ خضریٰ" شامل ہیں۔ ان کی تحریروں میں پنجابی اور اردو شعری روایت، نعتیہ جذبہ، انسانی احساس اور زندگی کے تجربات نمایاں ہیں۔ وہ پنجاب، خصوصاً وسطی اور جنوبی پنجاب کے مشاعروں میں فعال شرکت کے باعث ساہیوال کی ادبی شناخت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
رامش منہاس کے شعری مزاج کی ایک جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے:
کب تلک پھول کو اس شاخ پہ لہرانا ہے
تتلیو! ہوش کرو! وقت بدل جانا ہے
جوازِ ترکِ مراسم تلاش کرتے ہوئے
وہ گھر ہی بھول گیا رستہ بدلتے ہوئے
تدریس، ادارت، شاعری اور ادبی تنظیمی خدمات کے باعث رامش منہاس ہڑپہ اور ساہیوال کے علمی و ثقافتی ورثے کی قابلِ احترام شخصیت ہیں۔
