شانِ ساہیوال

طارق عزیز — شانِ ساہیوال

طارق عزیز — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی معروف شخصیت ہیں نامور ادیب، شاعر، اداکار، ٹی وی میزبان جناب طارق عزیز!


طارق عزیز کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ ساہیوال سے اُٹھا اور لاہور کی گلیوں، فٹ پاتھوں سے ہوتا ہوا قومی اسمبلی تک جا پہنچا۔ یہ ساہیوال دھرتی کا وہ سپوت ہے کہ ٹیلیویژن جیسی نئی ٹیکنالوجی پر جس کی آواز سب سے پہلے گونجی اور دنیا بھر میں اس کی پہچان بنتے ہوئے تاریخ کا حصہ بن گئی۔


طارق عزیز پاکستان کی ان ہمہ جہت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے ریڈیو، ٹیلی ویژن، فلم، صحافت، ادب اور سیاست، جس میدان میں قدم رکھا اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ وہ 28 اپریل 1936ء کو جالندھر کے ایک آرائیں گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا خاندان قیامِ پاکستان کے بعد ساہیوال، منٹگمری منتقل ہوگیا۔ طارق عزیز نے اپنی ابتدائی تعلیم بٹالہ مسلم ہائی اسکول سے جب کہ ہائی اسکول کی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول سے مکمل کی۔ بعد ازاں وہ گورنمنٹ کالج ساہیوال میں داخل ہوئے۔


ساہیوال میں ان کے قریبی دوستوں میں معروف صحافی، دانشور اور مؤرخ ڈاکٹر مہدی حسن بھی شامل تھے۔ دونوں نے اس شہر میں ایک ساتھ وقت گزارا، پھر لاہور میں بھی ایک عرصے تک ساتھ رہے اور عملی زندگی کی جدوجہد شروع کی۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق دونوں نے لاہور میں ایک ہی کمرے میں رہ کر ابتدائی مشکلات کا سامنا کیا۔ یہی وہ دور تھا جب طارق عزیز نے اپنے خوابوں کو عملی شکل دینے کے لیے ریڈیو کا رخ کیا۔


طارق عزیز نے 1960ء کی دہائی کے آغاز میں ریڈیو پاکستان لاہور سے بطور اناؤنسر اپنے فنی سفر کا آغاز کیا۔ جب پاکستان ٹیلی ویژن نے 26 نومبر 1964ء کو لاہور سے اپنی نشریات شروع کیں تو طارق عزیز اسکرین پر آنے والی اولین شخصیات میں شامل تھے اور انہیں پاکستان کے پہلے مرد ٹیلی ویژن اناؤنسر/پریزنٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان کی گرج دار آواز، برجستگی، شستہ اردو اور پُراعتماد انداز نے انہیں بہت جلد ملک بھر میں مقبول بنا دیا۔


ان کی اصل شہرت ’’نیلام گھر" سے ہوئی، جو 1970ء کی دہائی میں شروع ہوا اور تقریباً چار دہائیوں تک مختلف ناموں سے ناظرین کو محظوظ کرتا رہا۔ بعد میں یہی پروگرام ’’طارق عزیز شو‘‘ اور پھر ’’بزمِ طارق عزیز‘‘ کے نام سے جاری رہا۔ ان کا مخصوص جملہ ’’دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں، طارق عزیز کا سلام‘‘ پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ کا ایک یادگار فقرہ بن گیا۔ پروگرام کے اختتام پر ان کا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کہنا بھی ان کی حب الوطنی کی علامت بن چکا تھا۔


طارق عزیز صرف کمپیئر یا میزبان نہیں تھے بلکہ اداکار اور فلمی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے متعدد پاکستانی فلموں میں کام کیا، جن میں انسانیت، سالگرہ، قسم اُس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں اور "ہار گیا انسان" قابل ذکر ہیں۔ فلم اور ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ انہوں نے ریڈیو کے پروگراموں میں بھی اپنی آواز اور فن کا جادو جگایا۔


صحافت اور ادب سے بھی طارق عزیز کا گہرا تعلق تھا۔ وہ اخبارات میں کالم لکھتے رہے اور ان کے کالموں کا مجموعہ ’’ہزار داستان‘' کے نام سے شائع ہوا۔ وہ پنجابی زبان کے شاعر بھی تھے اور ان کی معروف کتاب

’’ہمزاد دا دکھ‘‘ پنجابی شاعری کا مجموعہ ہے۔ اس کے علاوہ ’’اقبال شناسی‘‘ میں علامہ اقبال کی شخصیت اور فکر سے ان کی گہری وابستگی نمایاں ہوتی ہے، جبکہ ’’فٹ پاتھ سے پارلیمنٹ تک‘‘ ان کی زندگی، جدوجہد اور سیاسی سفر سے متعلق اہم تصنیف ہے۔


سیاست میں بھی طارق عزیز نے عملی کردار ادا کیا۔ نوجوانی میں طلبہ سیاست سے وابستہ رہے اور ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کے نظریات سے متاثر ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1997ء میں لاہور سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ 1997ء سے 1999ء تک رکن قومی اسمبلی رہے۔ بعد میں پرویز مشرف کے دور میں مسلم لیگ (ق) سے بھی وابستہ ہوئے، تاہم رفتہ رفتہ سیاست سے کنارہ کش ہوکر دوبارہ اپنی ادبی اور فنی دنیا میں لوٹ آئے۔


ان کے ادبی اور فکری حلقۂ احباب میں ڈاکٹر مہدی حسن کے علاوہ متعدد اہلِ قلم اور فنونِ لطیفہ سے وابستہ شخصیات شامل تھیں۔ معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ نے انہیں ’’اپنے آپ میں ایک ادارہ‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے انتقال کو پی ٹی وی کے ایک عہد کا خاتمہ قرار دیا تھا۔ ساہیوال سے ان کی محبت بھی آخری عمر تک قائم رہی۔ وہ اپنے کالج کے زمانے، دوستوں اور ساہیوال کی محفلوں کو یاد کرتے تھے؛ اسی لیے ساہیوال کے لیے وہ محض ایک معروف شخصیت نہیں بلکہ شہر کی تہذیبی یادوں کا حصہ بھی ہیں۔


ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 1992ء میں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ 1998ء میں نویں پی ٹی وی ایوارڈز میں انہیں بہترین میزبان کا ایوارڈ بھی ملا۔


طارق عزیز کی زندگی کا سب سے متاثر کن پہلو ان کی حب الوطنی اور درویشانہ مزاج تھا۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی اور انہوں نے 2018ء میں اپنی وصیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی تمام جائیداد، دولت اور اثاثے پاکستان کے نام ہوں گے۔ انہوں نے اپنی بے اولادی کو اللہ کی مشیت قرار دیتے ہوئے اپنی دولت ملک کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وصیت ان کی پاکستان سے محبت کی ایک غیر معمولی مثال بن گئی۔


17 جون 2020ء کو 84 برس کی عمر میں لاہور میں طارق عزیز کا انتقال ہوا۔ طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔ انہیں لاہور کے گارڈن ٹاؤن کے گارڈن بلاک قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔


طارق عزیز کی آواز آج بھی پاکستان کی اجتماعی یادداشت میں زندہ ہے۔ ریڈیو کے سنہری دور سے پی ٹی وی کی ابتدائی اسکرین، ’’نیلام گھر‘‘ کی چار دہائیوں پر محیط مقبولیت، فلم، صحافت، شاعری، ادب اور سیاست تک ان کا سفر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب کمپیئر نہیں بلکہ پاکستانی میڈیا اور ثقافت کی ایک مکمل تاریخ کا نام تھے۔

#ساہیوال_ٹائمز #Sahiwal #SahiwalTimes