سردار ولی داد مردانہ بلوچ — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی داستان ہے ایک نڈر اور بے باک مجاہد یعنی سردار ولی داد مردانہ بلوچ کی۔
ساہیوال کی سرزمین نے 1857ء کی جنگِ آزادی میں ایسے جری اور بے خوف سپوت پیدا کیے جنہوں نے اپنی جان اور مال کی پروا کیے بغیر انگریز اقتدار کے خلاف مزاحمت کی۔ انہی بہادر مجاہدین میں ولی داد مردانہ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جس نے گاؤں محمد پور کو اپنا مرکز بنا کر انگریز حکومت کے خلاف ایسی مؤثر مزاحمتی کارروائیاں کیں کہ برطانوی انتظامیہ کو کئی ماہ تک شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
سردار ولی داد مردانہ 1825ء میں ساہیوال کے گاؤں محمد پور میں نورنگ خان بلوچ کے گھر پیدا ہوئے۔ جنگِ آزادی 1857ء کے وقت ان کی عمر صرف 32 سال تھی۔ ان کا شجرۂ نسب امیر حمزہؓ تک بتایا جاتا ہے اور انہیں میر چاکر خان کی اولاد میں مرید خان مردانہ کی بارہویں پشت سے بتایا گیا ہے۔ ولی داد مردانہ کا تعلق مردانہ بلوچ قبیلے سے تھا اور اپنے علاقے یعنی محمد پور اور آس پاس انہیں ایک بااثر قبائلی سردار کی حیثیت حاصل تھی۔
1857ء میں جب ہندوستان کے مختلف حصوں میں انگریز حکومت کے خلاف مزاحمت شروع ہوئی تو پنجاب کے گوگیرہ، ہڑپہ، راوی اور گرد و نواح میں بھی آزادی کی یہ آگ بھڑک اٹھی۔ رائے احمد خان کھرل اور دوسرے مقامی سرداروں کے ساتھ ولی داد مردانہ نے بھی انگریز اقتدار کے خلاف مزاحمت میں اہم کردار ادا کیا۔
ولی داد مردانہ کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو انگریزوں کے پیغام رسانی کے نظام کو مفلوج کرنا تھا۔ انہوں نے محمدپور کو اپنا مرکز بنا کر انگریز سرکار کے ڈاک اور پیغام رسانی کے نظام پر مسلسل حملے کیے۔ سرکاری اہلکاروں سے ڈاک چھین لی جاتی، ان کے گھوڑے قبضے میں لے لیے جاتے اور انگریز انتظامیہ کے پیغامات کو ان کی منزل تک پہنچنے سے روکا جاتا۔ اس طرح برطانوی حکومت کے لیے اپنے مختلف مراکز کے درمیان رابطہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔
ولی داد مردانہ اور ان کے ساتھیوں کی کارروائیاں اس قدر منظم اور مؤثر تھیں کہ انگریزوں کا پیغام رسانی کا سلسلہ تقریباً تین ماہ تک بحال نہ ہوسکا۔ برطانوی انتظامیہ اپنی پوری کوشش کے باوجود اس علاقے میں اپنے پیغام رسانی کے نظام کو مؤثر انداز میں بحال نہ کر سکی۔ یہ محض ایک معمولی مزاحمت نہیں تھی بلکہ انگریز حکومت کے انتظامی ڈھانچے کو براہِ راست چیلنج کرنے والی کارروائی تھی۔
مردانہ بلوچ مجاہدین نے محمد پور میں موجود انگریزوں کے ڈاک بنگلوں کو بھی نشانہ بنایا۔ ان بنگلوں کو آگ لگا دی گئی تاکہ برطانوی سرکاری اہلکار وہاں قیام کرکے اپنے انتظامی اور مواصلاتی معاملات آگے نہ بڑھا سکیں۔ یوں ولی داد مردانہ نے صرف میدانِ جنگ میں مقابلہ نہیں کیا بلکہ انگریز حکومت کے اس پورے انتظامی نظام کو نشانہ بنایا جس کے ذریعے وہ علاقے پر اپنی گرفت قائم رکھے ہوئے تھے۔
ولی داد مردانہ کی بہادری کا ایک ثبوت یہ بھی تھا کہ احمد خان کھرل کے ساتھ انہوں نے گوگیرہ جیل پر حملہ کرکے کئی نہتے لوگوں اور مجاہدین کو آزاد کروایا تھا۔ ان کی چھاپہ مار کارروائیوں سے انگریز بہت خائف تھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی میں پنجاب کے مقامی قبائل اور سرداروں نے جس انداز سے انگریز اقتدار کو چیلنج کیا، ان سب میں ولی داد مردانہ اور ان کے ساتھیوں کا نام نمایاں رہا۔
ایک روایت کے مطابق انگریز اسسٹنٹ کمشنر برکلے پر ولی داد مردانہ پہلے بھی قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔ ستمبر کی 21 تاریخ کو جب ان مجاہدین کا نڈر سربراہ احمد خان کھرل شہادت کے رتبے پر فائز ہوا تو ولی داد مردانہ اور مراد فتیانہ نے مجاہدین کی قیادت سنبھال لی اور انگریزوں پر پے درپے وار کرکے برکلے سمیت کئی سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔
ولی داد بلوچ کا خون جوان اور جوشیلا تھا، سو اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی ان کے انتقام کی آگ ٹھنڈی نہ ہوئی تھی۔ وہ ہر جگہ اور ہر محاذ پر دلیری سے لڑتے رہے اور فتح کے جھنڈے گاڑتے رہے۔ نومبر 1857ء کو ولی داد مردانہ دیگر مجاہدین کے ہمراہ انگریزوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور بحری جہاز کے ذریعے جزائر انڈیمان یعنی کالا پانی روانہ کیے گئے۔
راستے میں نادر شاہ قریشی اور موکھا وھنیوال کے ساتھ انہوں نے فرار کا منصوبہ بنایا، مگر انہی کے ایک ساتھی ماجھی بشیرا نے غداری کی اور انگریز افسروں کو اس منصوبے کی خبر کردی۔ ولی داد نے اس غدار کا وہیں گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کردیا، لیکن جب افسران کو معلوم ہوا تو سبھی مجاہد پانی میں کود گئے۔ روایت کے مطابق جزائرِ عرب سے ولی داد مردانہ حفاظت کے ساتھ واپس گوگیرہ پہنچے، مگر کچھ عرصے بعد دوبارہ انگریزوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور کالا پانی کی جیل میں ہی قید رہتے ہوئے اپنے وطن اور اپنی دھرتی پر قربان ہوگئے۔


