قسور مبارک بٹ — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی شخصیت ہیں پنجابی زبان کی معروف مزاحمتی آواز قسور مبارک بٹ۔
پنجابی ادب، زبان کی بقا اور بائیں بازو کی بیدار مغز سیاست میں قسور مبارک بٹ کا نام ایک روشن اور ناگزیر باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ساہیوال کی مٹی اور گنجی بار کے تاریخی و تہذیبی خطے سے جنم لینے والے اس عظیم شاعر نے نہ صرف ساہیوال بلکہ پورے پنجاب میں مادری زبان کے حقوق اور آمریت کے خلاف جدوجہد کی ایک نئی روح پھونکی۔
قسور مبارک بٹ 1961ء میں ساہیوال کے محلہ عید گاہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش اور سیاسی و فکری آبیاری ساہیوال کی علمی فضا میں ہوئی۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال میں تعلیم کے دوران ہی انہوں نے اپنے سیاسی اور ادبی سفر کا آغاز کر دیا تھا۔
قسور مبارک بٹ گورنمنٹ کالج ساہیوال کی اسٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے اور اپنے برادرِ کبیر وقاص بٹ کے ہمراہ بائیں بازو کی سیاست میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ انہوں نے این ایس ایف (NSF) یعنی نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے انقلابی جدوجہد میں حصہ لیا۔ اپنے کالج کے ایام ہی سے وہ اپنی بے بدل پنجابی شاعری کی بدولت مختلف ادبی مقابلوں میں انعامات حاصل کرتے رہے۔
قسور مبارک بٹ نے استعماری قوتوں کے ٹاؤٹوں کے خلاف مزاحمت اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں جب ملک پر سیاسی و فکری پابندیاں عائد تھیں، قسور مبارک بٹ نے اپنے جمہوری نظریات اور پنجابی زبان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ ان کے سیاسی نقطۂ نظر اور انقلابی سرگرمیوں کی پاداش میں انہیں سنٹرل جیل ساہیوال میں قید کر دیا گیا۔ جیل کی سایہ دار دیواروں کے پیچھے بھی ان کا قلم اور فکر خاموش نہ ہوئی، بلکہ ان کی شاعری میں حریت اور مزاحمت کا رنگ مزید نکھر کر سامنے آیا۔
قسور مبارک بٹ کی زندگی کا اہم ترین مرحلہ وہ ہے جب آپ تصوف اور روحانیت کی طرف مائل ہوئے اور سلسلۂ چشتیہ کے اہم ترین بزرگ کے ہاتھوں بیعت ہونے کے بعد تمام عمر پنجابی صوفیا کا پیغام اور تعلیمات عام کرنے کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔
قسور مبارک بٹ کو جدید کلاسیکی پنجابی شاعری کا اہم ترین شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں وادیٔ سندھ اور ہڑپائی تہذیب کی بو باس کے ساتھ ساتھ گنجی بار کے تلخ و شیریں حقائق، صوفیانہ فکرمندی اور قدیم پنجابی دیومالا کا حسین امتزاج ملتا ہے۔
وہ پنجاب لوک لہر کے بانی و مرکزی صدر رہے۔ اس پلیٹ فارم سے انہوں نے پنجاب کے گلی محلوں اور دیہاتوں تک مادری زبان کی اہمیت کو پہنچایا۔ وہ یونیورسٹی آف سرگودھا کے انٹرنیشنل سینٹر آف پنجاب اسٹڈیز کی ایڈوائزری باڈی کے معزز رکن بھی رہے۔ انہوں نے ساہیوال سے پنجابی مجلے لوک لہر کی ادارت کی اور پنجابی صحافت کو ایک نیا معیاری دھارا دیا۔
وہ ہر سال 21 فروری کو لاہور میں بین الاقوامی مادری زبان کے دن کے موقع پر نکلنے والے تاریخی جلوسوں اور مارچوں کے اہم منتظمین میں شامل رہتے تھے۔ اس میں اہم ترین مطالبہ پنجاب کے نونہالوں کو ان کا بنیادی حق دینے کے حوالے سے ہوتا، یعنی ہر پنجابی بچے کو UNESCO چارٹر کے مطابق اس کی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم دی جائے۔ وہ اس مطالبے کو سیاسی مطالبہ بنا کر ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کرتے رہے۔
ساہیوال اکیڈمی اور ادبی بورڈ: وہ ساہیوال اکیڈمی کے چیئرمین اور پنجابی ادبی بورڈ لاہور کی ایگزیکٹو کمیٹی کے فعال رکن رہے۔ اگرچہ ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ ان کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا، لیکن ان کا کلام پاکستان اور بیرونِ ملک سے شائع ہونے والے تقریباً تمام معتبر پنجابی ادبی مجلات کی زینت بنتا رہا۔ معروف رسالے بھلیکھا نے ان کی سیاسی و ادبی زندگی پر ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کیا۔
طویل علالت کے بعد 14 دسمبر 2022ء کو 61 برس کی عمر میں یہ عظیم شاعر اور عوامی رہنما داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ ماہی شاہ قبرستان، ساہیوال میں ادا کی گئی، جہاں ہزاروں سوگواروں اور ادبی شخصیات کی موجودگی میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ پسماندگان میں ان کے چار بھائی اور دو بہنیں شامل ہیں، جن میں ان کے بڑے بھائی کامریڈ وقاص بٹ بھی شامل ہیں۔
قسور مبارک بٹ کا اس دنیا سے رخصت ہونا پنجابی زبان، ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ایک ایسا خلا ہے جو مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ ان کا اندازِ سخن اور انقلابی ترنم ان کی تحریروں اور اشعار کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے گا۔
(تحقیق و تحریر: عاصم اسلم)
#ساہیوال_ٹائمز #ادبی_ورثہ #SahiwalTimes #اردو_ادب #ساہیوال #پنجابی_ادب


