شانِ ساہیوال

میاں محمد سجاول عرف سوجا بھدرو — شانِ ساہیوال

میاں محمد سجاول عرف سوجا بھدرو — شانِ ساہیوال

سلسلہ شانِ ساہیوال میں آج کی مجاہد شخصیت ہیں میاں محمد سجاول عرف سوجا بھدرو!


جنگِ آزادی 1857ء کے ایک نامور ہیرو میاں محمد سجاول (سوجا بھدرو) کی تاریخِ پیدائش کا کوئی حتمی دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں، تاہم بعض سنی سنائی روایات کے مطابق سوجا بھدرو 1813ء اور کچھ روایات کے مطابق 1817ء کو گوگیرہ کے نواحی گاؤں میں جٹ قبیلے "بھدرو" میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ گوگیرہ (منٹگمری) ضلع کا اہم حصہ تصور کیا جاتا تھا، کیونکہ انگریز اسے ضلعی حیثیت دے چکا تھا۔


1857ء کی جنگ کے وقت سوجا بھدرو چالیس، بیالیس سال کا ایک کڑیل، گھبرو اور مضبوط جوان تھا۔ سوجا بھدرو اپنے پانچ بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کے باقی چار بھائی بھی اس جنگ میں احمد خان کھرل شہید کے شانہ بشانہ بہادری سے لڑے، مگر سوجا بھدرو ان سب میں الگ صلاحیت اور انوکھے جذبوں کے مالک تھے۔ باقی چار بھائیوں میں گھوندا بھدرو، جھندا بھدرو، نور بھدرو اور رحیم بھدرو شامل تھے۔


سوجا بھدرو اور ان کے بھائیوں نے انگریزوں کی اطاعت قبول کرنے کے بجائے لڑائی کو ترجیح دی اور پورے بھدرو قبیلے کو برطانوی راج کے خلاف لا کھڑا کیا۔ سوجا بھدرو خاص طور پر جنگ میں لاٹھی چلانے والے ماہر لاٹھی باز تھے۔ ایک لوک روایت کے مطابق ان کی بہادر ماں اپنے پانچوں کڑیل جوان بیٹوں کو بہادری کے روایتی پنجابی گیت سنا کر دشمن کے خلاف لڑائی میں حوصلہ دیتیں اور سب کے لیے کھانے کا بندوبست کرتیں۔ ان پانچوں جوان شیروں نے کبھی پیٹھ نہیں دکھائی۔


سوجا بھدرو اپنی جوشیلی طبیعت اور لڑائی کے فنون سے واقفیت کے باعث قبیلے کے اہم فرد اور اپنے مجاہدین کے سردار تھے۔ جنگِ آزادی 1857ء کے دوران جب قبولہ، منٹگمری کے ایک قصبے، کے اعزاز جوئیہ نے انگریز سرکار کو مالیہ دینے سے انکار کیا تو دیگر لوگوں میں بھی انگریز کو ناں کرنے کی جرأت پیدا ہوئی۔ انگریز سپاہیوں نے اعزاز جوئیہ کو گرفتار کرکے گوگیرہ جیل میں بند کردیا۔ جب گوگیرہ کے آس پاس کے قبائل تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے بھی انگریز کو کسی قسم کا مالیہ دینے سے انکار کردیا۔ یہ بغاوت کی ابتدا تھی۔


اس کے جواب میں انگریز فوج نے گوگیرہ سے وٹو، فتیانے، بھدرو اور کھرل برادری کے متعدد لوگوں کو حراست میں لے کر گوگیرہ جیل میں بند کردیا۔ اس ناانصافی کے خلاف 26 جولائی 1857ء کو رائے احمد خان کھرل کی قیادت میں مجاہدین نے گوگیرہ جیل پر ایک تاریخی اور خونریز حملہ کیا۔ سوجا بھدرو اور ان کے بھائی اس حملے کے صفِ اول کے جنگجوؤں میں شامل تھے۔ مجاہدین نے جیل کے پھاٹک توڑ کر اپنے قیدی بھائیوں کو آزاد کروایا۔ اس معرکے میں انگریز فوج کی فائرنگ سے کئی قیدی شہید ہوئے، جبکہ انگریز فوج کے کئی سپاہی اور مقامی سپاہی بھی موقع پر مارے گئے۔


اس واقعے کے بعد بزرگ رہنما احمد خان کھرل مقامی قبائل کے متفقہ لیڈر بن کر ابھرے اور انہوں نے تمام قبائل کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سوجا بھدرو ان کے اہم کمان داروں میں شامل تھے۔ 21 ستمبر 1857ء کو پنجاب میں تحریکِ آزادی کے سب سے بڑے رہنما رائے احمد خان کھرل کو انگریزوں اور ان کے مقامی مخبروں نے گشکوری جنگل میں نورے دی ڈل کے مقام پر حالتِ نماز میں گولی مار کر شہید کردیا۔ احمد خان کھرل کی شہادت نے مقامی قبیلوں میں غم و غصے کی آگ بھڑکا دی۔ سوجا بھدرو اور ان کے قریبی ساتھیوں نے قسم کھائی کہ وہ اپنے عظیم قائد کی شہادت کا بدلہ انگریز افسروں سے لیں گے۔


سردار احمد خان کھرل کی شہادت کے اگلے ہی دن، 22 ستمبر 1857ء کو، اس وقت کا اسسٹنٹ کمشنر لارڈ برکلے اپنی فوج کے ساتھ راوی کے جنگلات کی طرف بڑھ رہا تھا۔ راوی کنارے جنگل میں بیٹھے مراد فتیانہ، سوجا بھدرو اور ان کے ساتھیوں نے برکلے اور اس کے سپاہیوں پر حملہ کردیا۔ لڑائی کے دوران برکلے نے جان بچا کر بھاگنے کی کوشش کی مگر مراد فتیانہ کے برچھے نے اسے گھوڑے سے زمین پر گرا دیا۔ اس سے قبل کہ وہ اٹھ کر بھاگتا، لاٹھی چلانے میں ماہر سوجا بھدرو نے فرار ہوتے برکلے پر ایسا لاٹھی چارج کیا کہ وہ وہیں دم توڑ گیا۔ مجاہدین نے اس معرکے میں کئی انگریز سپاہیوں کو ہلاک کیا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے اپنی فتح کا اعلان کیا۔


یہ برصغیر کی تاریخ کا وہ یادگار دن تھا جب دیسی ہتھیاروں، لاٹھی اور نیزے، سے لیس پنجاب کے مجاہدین نے برطانوی سلطنت کے ایک تکبر سے بھرے افسر کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر اپنے قائد کا بدلہ لیا۔ انگریز کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس معرکے میں پچاس سپاہی مارے گئے تھے، مگر حقیقت میں تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔


لارڈ برکلے کی ہلاکت کے بعد انگریزوں نے سوجا بھدرو اور ان کے بھائیوں کو پکڑنے کے لیے زمین آسمان ایک کردیا۔ بار بار ان کے علاقوں پر حملے کیے گئے، گھر بار جلائے گئے اور زمینیں ضبط کرلی گئیں۔ مگر تاریخی دستاویزات کے مطابق برطانوی سرکار جدید ترین فوج اور وسیع نیٹ ورک کے باوجود سوجا بھدرو کو کبھی زندہ یا مردہ گرفتار نہ کرسکی۔ اس کے بعد بھی وہ طویل عرصے تک روپوش رہ کر انگریزوں کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرتے رہے اور ایک لمبے عرصے تک ان کا نام انگریزوں کے لیے دہشت بنا رہا۔


کچھ روایات کے مطابق سوجا بھدرو انگریز کے ایک حملے میں شہید کردیئے گئے تھے، مگر زیادہ روایات کے مطابق طویل عرصہ تک جدوجہد کے بعد میاں محمد سجاول عرف سوجا بھدرو کی وفات طبعی انداز میں ہوئی۔ اللہ ان مجاہدین پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین۔ ضلعی انتظامیہ ساہیوال نے یادگار شہدا چوک میں باقی مجاہدین کے ساتھ سوجا بھدرو کا نام بھی نمایاں کرکے کندہ کر رکھا ہے۔


تحقیق و تحریر: ضیاء اللہ محسن