شانِ ساہیوال

پروفیسر سید ریاض حسین زیدی — شانِ ساہیوال

پروفیسر سید ریاض حسین زیدی — شانِ ساہیوال

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں آج کی مہمان شخصیت ہیں جناب پروفیسر سید ریاض حسین زیدی صاحب۔


پروفیسر سید ریاض حسین زیدی نہایت مشفق، عظیم معلم، دانشور، بہترین استاد اور خداداد اوصاف کے مالک انسان اور نہایت شاندار شخصیت ہیں۔


آپ 11 اپریل 1940ء کو مردم خیز شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں شہرِ غزل اور شہرِ مجید امجد ساہیوال تشریف لائے، ساہیوال آنے کے بعد اس شہر کی علمی و ادبی فضاؤں کو معطر کیا۔ یہاں "ادب سرائے" کی بنیاد ڈالی۔ پھر برابر اس کے کئی اجلاس منعقد کرواتے رہے۔


پروفیسر صاحب نے صنفِ نعت میں بہت نام کمایا۔ اسی لیے حکومت پاکستان اور حکومتِ پنجاب نے آپ کو قومی سیرت ایوارڈز سے بھی نوازا۔۔۔آپ کی بے مثال تخلیقات درج ذیل ہیں:


ریاض مدحت (صدارتی ایوارڈ یافتہ) 2002ء


جمال سید لولاک 2005ء، ذکر شہ والا (صدارتی ایوارڈ یافتہ) 2011ءمرگِ آفتاب کے (مجموعہ غزل) سال طبع 2013ءاے رسولِ امیں (نعتیہ مجموعہ) سال طبع 2020ء


آپ کو 2000ء میں ریاض محمد ایوارڈ اور 2003ء میں حفیظ تائب نعت ایوارڈ سے نوازا گیا۔


1994ء سے آج تک ادب سرائے کے پلیٹ فارم سے مسلسل مشاعرے کے لیے اور ملی ادبی تخلیقات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کرونا کے دوران بھی آن لائن مشاعرے کرا کے اور اس سلسلہ کو تھمنے نہیں دیا گیا۔


ملکِ عزیز کے نامور مجلّوں فنون، اوراق، بیاض، الحمرا، ارژنگ، غنیمت، ادب دوست، مدحت اور نعت رنگ میں آپ کا کلام چھپتا رہا ہے۔پی ٹی وی اور دیگر چینلز پر آپ بطور شاعر بارہا کلام پڑھ چکے ہیں، اس طرح آپ کی گفتگو کے ذریعے بہت لوگ مستفید ہوئے ہیں۔


آپ صدر عمل فاؤنڈیشن ساہیوال، صدر قومی زبان تحریک ساہیوال ہیں تقریباً 40 سال تعلیم و تعلم جیسے مقدس شعبہ سے وابستہ رہے۔ گورنمنٹ کالج عارف والا میں 1983ء تا 1990ء صدر شعبہ نفسیات کی خدمات سر انجام دیں آپ کے ،ہزاروں شاگرد آپ کے علمی و ادبی ورثے کی نشانی ہیں۔


علم و ادب کی دنیا کے اس عظیم شاعر کی صحت کے لیے ساہیوال ٹائمز دعا گو ہے۔۔آپ اس وقت فرید ٹاؤن ساہیوال میں مقیم ہیں۔ یقینا" آپ شان ساہیوال بلکہ شانِ پاکستان ہیں۔ آخر میں پروفیسر زیدی صاحب کا ایک نعتیہ شعری نمونہ ملاحظہ فرمائیں:


محو ثنا ہوں گنبدِ خضریٰ نظر میں ہے


ہر لحظہ ذوق و شوق کی دنیا نظرمیں ہے