شانِ ساہیوال

محمود الحسن عابد — شانِ ساہیوال

ChatGPT Image Sep 19, 2026, 12_17_32 PM.png

شان ساہیوال میں آج کی شخصیت جن کے کئی ادبی پہلو ہیں۔ہمارے مہمان بنے ہیں۔جن کا نام تو محمود الحسن ہے مگر علمی ادبی حلقوں میں محمود الحسن عابد کے نام سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔


آپ ساہیوال کے مردم خیز علاقہ کسووال کے ایک گاؤں8۔14 ایل میں پیدا ہوئے۔آپ نے فاضل اردو۔ادیب فاضل۔عالم فاضل۔اور منشی فاضل کے امتحانات نمایاں پوزیشن میں پاس کیے۔


30 سال نک نونہالان ملت کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کیا۔


آپ بیک وقت شاعر۔ادیب۔نقیب محفل۔اور دلنشیں لحن لئے نعت خواں اور جانے مانے استاد ہیں۔


1982 آپ کی شاعری کی ابتدا کا سن تھا۔شاعری میں آپ ماہر عروض جناب ارشاد جالندھری کے تلمیذ ہیں۔


استاد سخن ڈاکٹر بیدل حیدری نے ایک ادبی تنظیم "کاروان ادب" کی بنا ڈالی جس کی ذیلی شاخ کسووال میں قائم ہوئی اور آپ اس کے اولین جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔


احترام حیات زہرا۔شان ابوبکر صدیق رض۔احسان ابو طالب۔شان عمر فاروق رض۔علی مولا علی مولا۔قلندر بابا حسین شاہ آپ کی مایہ ناز تصانیف ہیں۔


مستزاد یہ کہ پاکستان کے تین صوبوں میں نقابت ۔شاعری اور نعت خوانی کا لوہا منوا چکے ہیں۔


آپ وہ شاعر ہیں جن کو علم عروض کی سند سے باقاعدہ سرفراز کیا گیا۔


روزنامہ جنگ لاہور اور آداب عرض ڈائجسٹ نے آپ کو ادبی ایوارڈ سے نوازا۔ڈاکٹر بیدل حیدری ایوارڈ اور کوئٹہ کی ادبی تنظیم "حرف" نے آپ کو " اعتراف فن ایوارڈ " دیا۔


اب تک آپ کئ ٹیلی ویژن چینلز میں مشاعرے پڑھ چکے ہیں اور ساہیوال کا نام روشن کیا ہے۔


آپ سنگ سنگ ساہیوال کے سینئر ممبر بھی ہیں۔


آپ کا بہت بڑا اعزاز کہ آپ احمد ندیم قاسمی۔احمد فراز۔امجد اسلام امجد۔منیر نیازی۔محسن نقوی۔نوشی گیلانی۔پروین شاکر۔قتیل شفائی۔طالب جتوئی۔حاجی بشیر احمد بشیر۔جعفر شیرازی۔پروفیسر سید ریاض حسین زیدی۔علی رضا۔محمد فاروق اظہر۔محمود غزنی۔کاشف سجاد۔شوکت کاٹھیا۔انمول گوہر۔نازیہ رحمان ناز۔ صغرا صدف اور اجمل نیازی جیسے شعرا کے ساتھ مشاعروں میں سنگت کر چکے ہیں۔


آپ کے دو اشعار::


بڑا آزاد ہوتا جا رہا ہے


یہ دل برباد ہوتا جا رہا ہے


مجھے تم بھولتے ہی جا رہے ہو


تمھیں کیا یاد ہوتا جارہا ہے