اس بجٹ میں ملک کے مستقبل یعنی نوجوانوں کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے وفاقی بجٹ 2026/2027ء پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے معاشی تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے، انہوں نے ایک منفرد موازنہ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے بجٹ میں ملکی نوجوانوں کی اوقات اسلام آباد کے ایک سموسے سے بھی کم لگا دی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی بجٹ پر قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں بحث کے دوران پیپلز پارٹی کی ایم این اے شرمیلا فاروقی نے اپنی ہی اتحادی حکومت کے بجٹ پر شدید تنقید کی ہے، انہوں نے ملک کے 16 کروڑ سے زائد نوجوانوں کے لیے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بجٹ مختص کرنے اور غریب کش ٹیکسوں پر پارلیمنٹ کے اندر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔
شرمیلا فاروقی نے بجٹ دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے نوجوانوں کے لیے رکھی گئی رقم پر کہا کہ اس بجٹ میں ملک کے مستقبل یعنی نوجوانوں کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا، پاکستان میں اس وقت لگ بھگ 16 کروڑ 30 لاکھ یعنی 163 ملین نوجوان موجود ہیں، لیکن حکومت نے بجٹ میں ان کے لیے صرف 5 ارب روپے مختص کیے ہیں، اگر 5 ارب روپے کو 163 ملین نوجوانوں پر تقسیم کیا جائے، تو فی نوجوان صرف 32 روپے بنتے ہیں، آج اسلام آباد میں ایک عام سا سموسہ بھی 40 روپے کا ملتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس حکومت نے اپنے ملک کے نوجوان کی قدر و قیمت ایک سموسے سے بھی کم 32 روپے لگائی ہے۔
رکنِ قومی اسمبلی نے ٹیکس نیٹ اور مراعات یافتہ طبقے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں عام آدمی کو کچل دیا گیا ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ ہولڈرز اور ہوائی جہازوں کے فرسٹ کلاس میں سفر کرنے والی اشرافیہ کو ریلیف دیا گیا ہے، پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈال دیا گیا ہے، پاکستان میں اس وقت بجلی اور پٹرول کی قیمتیں پورے خطے میں سب سے زیادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود وزراء کو کارکردگی کے میڈل بانٹے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آج کے دور میں 8 ہزار روپے کمانے والا شخص اپنا گھر چلا سکتا ہے؟ ملک میں خطِ غربت کی پرانی اور فرسودہ تعریف کو فوری تبدیل کیا جائے، اگر موجودہ شرحِ افزائش برقرار رہی تو سال 2050ء تک پاکستان کی آبادی 39 کروڑ تک پہنچ جائے گی، روزگار، تعلیم اور صحت کے موجودہ فقدان کو دیکھتے ہوئے یہ آبادی ملک کے لیے ایک بہت بڑا سماجی و معاشی المیہ ثابت ہوگی، جس سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں کوئی طویل المیعاد منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔
